شاعری

ایک آدھ حریف غم دنیا بھی نہیں تھا

ایک آدھ حریف غم دنیا بھی نہیں تھا ارباب وفا میں کوئی اتنا بھی نہیں تھا لب جلتے ہیں مے خواروں کے سینے نہیں جلتے اس درجہ خنک شعلۂ مینا بھی نہیں تھا اک اس کا تغافل ہے وہ یاد آ ہی گیا ہے اک وعدۂ فردا ہے وہ بھولا بھی نہیں تھا کہہ سکتے تو احوال جہاں تم سے ہی کہتے تم سے تو کسی بات کا ...

مزید پڑھیے

بیٹھو جی کا بوجھ اتاریں دونوں وقت یہیں ملتے ہیں

بیٹھو جی کا بوجھ اتاریں دونوں وقت یہیں ملتے ہیں دور دور سے آنے والے رستے کہیں کہیں ملتے ہیں وہم بھی ہو جاتا ہے دل کو لیکن اس میں تعجب کیا ہے ایسے دشت کہ جن میں شمعیں آپ ہی آپ جلیں، ملتے ہیں گہرے سرخ گلاب کا اندھا بلبل سانپ کو کیا دیکھے گا پاس ہی اگتی ناگ پھنی تھی سارے پھول وہیں ...

مزید پڑھیے

وہی داغ لالہ کی بات ہے کہ بہ نام حسن ادھر گئی

وہی داغ لالہ کی بات ہے کہ بہ نام حسن ادھر گئی کوئی کیا کہے کہ کہاں کہاں ترے خال رخ کی خبر گئی کوئی ہاتھ دشنۂ جاں ستاں کوئی ہاتھ مرہم پرنیاں یہ تو ہاتھ ہاتھ کی بات ہے کوئی وقت پا کے سنور گئی وہی ایک سود و زیاں کا غم جو مزاج عشق سے دور تھا وہ تری زباں پہ بھی آ گیا تو لگن ہی جی کی بکھر ...

مزید پڑھیے

اے شہر خرد کی تازہ ہوا وحشت کا کوئی انعام چلے

اے شہر خرد کی تازہ ہوا وحشت کا کوئی انعام چلے کچھ حرف ملامت اور چلیں کچھ ورد زباں دشنام چلے اک گرمیٔ جست فراست ہے اک وحشت پائے محبت ہے جس پاؤں کی طاقت جی میں ہو وہ ساتھ مرے دو گام چلے ایسے غم طوفاں میں اکثر اک ضد کو اک ضد کاٹ گئی شاید کہ نہنگ آثار ہوا کچھ اب کے حریف دام چلے جو بات ...

مزید پڑھیے

آتش مینا نظر آئی حریفانہ مجھے

آتش مینا نظر آئی حریفانہ مجھے اک تغیر کی خبر دیتا ہے پیمانہ مجھے تشنۂ نازک مزاجان کنشت و دیر کا برہمن کہنے بھی دے ایک آدھ افسانہ مجھے کس قدر حیرت اثر نکلی ہے مرگ عندلیب اس سپاس جاں سے گل لگتا ہے بیگانہ مجھے اک خیال زلف جاناں اک ہوائے پیچ پیچ اک نہ اک زنجیر سر رکھتی ہے دیوانہ ...

مزید پڑھیے

ناوک تازہ دل پر مارا جنگ پرانی جاری کی

ناوک تازہ دل پر مارا جنگ پرانی جاری کی آج ہوا نے زخم کہن میں ڈوب کے تازہ کاری کی جس کیاری میں پھول کھلے تھے ناگ پھنی سی لگتی ہے موسم گل نے جاتے جاتے دیکھا کیا دشواری کی ایک طرف روئے جاناں تھا جلتی آنکھ میں ایک طرف سیاروں کی راکھ میں ملتی رات تھی اک بے داری کی کوئے بیاں کی ویرانی ...

مزید پڑھیے

فراق سے بھی گئے ہم وصال سے بھی گئے

فراق سے بھی گئے ہم وصال سے بھی گئے سبک ہوئے ہیں تو عیش ملال سے بھی گئے جو بت کدے میں تھے وہ صاحبان کشف و کمال حرم میں آئے تو کشف و کمال سے بھی گئے اسی نگاہ کی نرمی سے ڈگمگائے قدم اسی نگاہ کے تیور سنبھال سے بھی گئے غم حیات و غم دوست کی کشاکش میں ہم ایسے لوگ تو رنج و ملال سے بھی ...

مزید پڑھیے

نہ فاصلے کوئی نکلے نہ قربتیں نکلیں

نہ فاصلے کوئی نکلے نہ قربتیں نکلیں وفا کے نام سے کیا کیا سیاستیں نکلیں کھلی ہے وحشت عالم پہ آج کاکل یار کچھ اور دور خرد تیری نسبتیں نکلیں ہزار ہاتھوں کے پیمان نو کا مرکز ہے ہوا کے ہاتھ میں نادید طاقتیں نکلیں سپاہ عشق جہاں خندقوں میں جلتی تھی وہ موڑ کاٹ کے آخر محبتیں ...

مزید پڑھیے

جی ہے بہت اداس طبیعت حزیں بہت

جی ہے بہت اداس طبیعت حزیں بہت ساقی کو پیالۂ مے آتشیں بہت دو گز زمیں فریب وطن کے لیے ملی ویسے تو آسماں بھی بہت ہیں زمیں بہت ایسی بھی اس ہوا میں ہے اک کافری کی رو بجھ بجھ گئے ہیں شعلۂ ایمان و دیں بہت بے باکیوں میں فرد بہت تھی وہ چشم ناز دل کی حریف ہو کے اٹھی شرمگیں بہت پیکار خیر و ...

مزید پڑھیے

ہرے درخت کا شاخوں سے رشتہ ٹوٹ گیا

ہرے درخت کا شاخوں سے رشتہ ٹوٹ گیا ہوا چلی تو گلابوں سے رشتہ ٹوٹ گیا کہاں ہیں اب وہ مہکتے ہوئے حسیں منظر کھلی جو آنکھ تو خوابوں سے رشتہ ٹوٹ گیا ذرا سی دیر میں بیمار غم ہوا رخصت پلک جھپکتے ہی لوگوں سے رشتہ ٹوٹ گیا گلاب تتلی دھنک روشنی کرن جگنو ہر ایک شے کا نگاہوں سے رشتہ ٹوٹ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 3781 سے 4657