ایک آدھ حریف غم دنیا بھی نہیں تھا
ایک آدھ حریف غم دنیا بھی نہیں تھا ارباب وفا میں کوئی اتنا بھی نہیں تھا لب جلتے ہیں مے خواروں کے سینے نہیں جلتے اس درجہ خنک شعلۂ مینا بھی نہیں تھا اک اس کا تغافل ہے وہ یاد آ ہی گیا ہے اک وعدۂ فردا ہے وہ بھولا بھی نہیں تھا کہہ سکتے تو احوال جہاں تم سے ہی کہتے تم سے تو کسی بات کا ...