شاعری

ہزار وقت کے پرتو نظر میں ہوتے ہیں

ہزار وقت کے پرتو نظر میں ہوتے ہیں ہم ایک حلقۂ وحشت اثر میں ہوتے ہیں کبھی کبھی نگۂ آشنا کے افسانے اسی حدیث سر رہ گزر میں ہوتے ہیں وہی ہیں آج بھی اس جسم نازنیں کے خطوط جو شاخ گل میں جو موج گہر میں ہوتے ہیں کھلا یہ دل پہ کہ تعمیر بام و در ہے فریب بگولے قالب دیوار و در میں ہوتے ...

مزید پڑھیے

حکایت حسن یار لکھنا حدیث مینا و جام کہنا

حکایت حسن یار لکھنا حدیث مینا و جام کہنا ابھی وہی کار عاشقاں ہے سکوت غم کا کلام کہنا افق تغیر کی تیز لو سے پگھل رہا ہے بدل رہا ہے مگر اس احوال واقعی کو لکھیں نہ وہ میرے نام کہنا ہزار ہاتھوں سے میں نے جس کو سنبھال رکھا تھا زندگی میں چراغ بر کف بساط دل پر کھڑی ہوئی ہے وہ شام ...

مزید پڑھیے

ختم ہوئی شب وفا خواب کے سلسلے گئے

ختم ہوئی شب وفا خواب کے سلسلے گئے جس در نیم باز کے پیش تھے مرحلے گئے جو رگ ابر و باد سے تا بہ رگ جنوں رہیں عشق کی وہ حکایتیں حسن کے وہ گلے گئے شکر و سپاس کا مزہ دے ہی گیا سکوت یار وصل و فراق سے الگ درد کے حوصلے گئے اک مرے ہم کنار کی مجھ سے قریب آ کے رات خیمۂ درد ہو گئی قرب کے ولولے ...

مزید پڑھیے

کرم کا اور ہے امکاں کھلے تو بات چلے

کرم کا اور ہے امکاں کھلے تو بات چلے اس التفات کا عنواں کھلے تو بات چلے کس انتظار میں تھی روح خود نمائی گل برس کے ابر بہاراں کھلے تو بات چلے کچھ اب کے ہم بھی کہیں اس کی داستان وصال مگر وہ زلف پریشاں کھلے تو بات چلے جفا یہ سلسلۂ صد ہزار عنواں ہے قمیص یوسف کنعاں کھلے تو بات ...

مزید پڑھیے

صلیب و دار کے قصے رقم ہوتے ہی رہتے ہیں

صلیب و دار کے قصے رقم ہوتے ہی رہتے ہیں قلم کی جنبشوں پر سر قلم ہوتے ہی رہتے ہیں یہ شاخ گل ہے آئین نمو سے آپ واقف ہیں سمجھتی ہے کہ موسم کے ستم ہوتے ہی رہتے ہیں کبھی تیری کبھی دست جنوں کی بات چلتی ہے یہ افسانے تو زلف خم بہ خم ہوتے ہی رہتے ہیں توجہ ان کی اب اے ساکنان شہر تم پر ہے ہم ...

مزید پڑھیے

دلوں کی عقدہ کشائی کا وقت ہے کہ نہیں

دلوں کی عقدہ کشائی کا وقت ہے کہ نہیں یہ آدمی کی خدائی کا وقت ہے کہ نہیں کہو ستارہ شناسو فلک کا حال کہو رخوں سے پردہ کشائی کا وقت ہے کہ نہیں ہوا کی نرم روی سے جواں ہوا ہے کوئی فریب تنگ قبائی کا وقت ہے کہ نہیں خلل پذیر ہوا ربط مہر و ماہ میں وقت بتا یہ تجھ سے جدائی کا وقت ہے کہ ...

مزید پڑھیے

نرمی ہوا کی موج طرب خیز ابھی سے ہے

نرمی ہوا کی موج طرب خیز ابھی سے ہے اے ہم صفیر آتش گل تیز ابھی سے ہے اک تازہ تر سواد محبت میں لے چلی وہ بوئے پیرہن کہ جنوں خیز ابھی سے ہے اک خواب طائران بہاراں ہے اس کی آنکھ تعبیر ابر و باد سے لبریز ابھی سے ہے شب تاب ابھی سے اس کی قباؤں کے رنگ ہیں اک داستاں جبین گہر ریز ابھی سے ...

مزید پڑھیے

لکھی ہوئی جو تباہی ہے اس سے کیا جاتا

لکھی ہوئی جو تباہی ہے اس سے کیا جاتا ہوا کے رخ پہ مگر کچھ تو ناخدا جاتا جو بات دل میں تھی اس سے نہیں کہی ہم نے وفا کے نام سے وہ بھی فریب کھا جاتا کشید مے پہ ہے کیسا فساد حاکم شہر تری گرہ سے ہے کیا بندۂ خدا جاتا خدا کا شکر ہے تو نے بھی مان لی مری بات رفو پرانے دکھوں پر نہیں کیا ...

مزید پڑھیے

یہ فضائے ساز و مضرب یے ہجوم تاج داراں

یہ فضائے ساز و مضرب یے ہجوم تاج داراں چلو آؤ ہم بھی نکلیں بہ لباس سوگواراں یہ فسون روئے لیلیٰ بہ عذاب جان مجنوں وہی حسن دشت و در ہے بہ طواف جاں نثاراں غم کارواں کا آخر کوئی رخ نہ اس سے چھوٹا وہ حدیث کہہ گئی ہے یہ ہوائے رہ گزاراں وہ تعصب برہمن جو صنم کو ڈھالتا ہے رخ نقش پر بھی آیا ...

مزید پڑھیے

اس گفتگو سے یوں تو کوئی مدعا نہیں

اس گفتگو سے یوں تو کوئی مدعا نہیں دل کے سوا حریف کوئی دوسرا نہیں آنکھیں ترس گئیں تمہیں دیکھے ہوئے مگر گھر قابل ضیافت مہماں رہا نہیں ناقوس کوئی بحر کی تہہ میں ہے نعرہ زن ساحل کی یہ صدا تو کوئی ناخدا نہیں مانا کہ زندگی میں ہے ضد کا بھی ایک مقام تم آدمی ہو بات تو سن لو خدا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 3779 سے 4657