ہزار وقت کے پرتو نظر میں ہوتے ہیں
ہزار وقت کے پرتو نظر میں ہوتے ہیں ہم ایک حلقۂ وحشت اثر میں ہوتے ہیں کبھی کبھی نگۂ آشنا کے افسانے اسی حدیث سر رہ گزر میں ہوتے ہیں وہی ہیں آج بھی اس جسم نازنیں کے خطوط جو شاخ گل میں جو موج گہر میں ہوتے ہیں کھلا یہ دل پہ کہ تعمیر بام و در ہے فریب بگولے قالب دیوار و در میں ہوتے ...