افق کے اس پار کر رہا ہے کوئی مرا انتظار شاید
افق کے اس پار کر رہا ہے کوئی مرا انتظار شاید اسی کی جانب چلی ہے شام و سحر کی یہ رہ گزار شاید قفس میں دور و دراز سے بھینی بھینی خوشبو سی آ رہی ہے چمن چمن ہم کو ڈھونڈتی ہوگی موج فصل بہار شاید ہزار بار آزما چکا ہے مگر ابھی آزما رہا ہے ابھی زمانے کو آدمی کا نہیں ہے کچھ اعتبار شاید نہ ...