شاعری

مجھے تم نیند سے بیدار کرنا

مجھے تم نیند سے بیدار کرنا سمندر ہے مجھے اک پار کرنا لبوں پر برف جمتی جا رہی ہے دلوں کو اب لہو گفتار کرنا اٹھانا ریت کی دیوار دن بھر اسے پھر شام کو مسمار کرنا مناظر چھین لینا روشنی کے اندھیرے کو کبھی انوار کرنا ہے جس کا اصل ہی آنکھوں سے اوجھل اسے کیا دیکھنا دیوار کرنا ابھی ...

مزید پڑھیے

کھڑکیاں کھول کے کیسی یہ صدائیں آئیں

کھڑکیاں کھول کے کیسی یہ صدائیں آئیں یاد یہ کس کی دلانے کو صدائیں آئیں ذہن کی دھند نے عمروں کو سوالی رکھا دھند کے پردے سے کتنی ہی شعاعیں آئیں توڑ کر کون سی زنجیر یہ مجرم آئے جرم تھا کون سا ان کا جو سزائیں آئیں میں تجھے بھول کے دنیا سے لپٹ جاتا ہوں ایسا کرنے سے نہ جینے کی ادائیں ...

مزید پڑھیے

عکس ہے کس کا کس کی صدا ہے

عکس ہے کس کا کس کی صدا ہے پتا پتا محو دعا ہے کتنے روشن سوچ کے لمحے ایک پرندہ نغمہ سرا ہے جی میں ہے اب اس سے کہہ دوں چاند ہمارا ڈوب چکا ہے اپنی کہنا اپنی سننا غنچہ انا کا کھلنے لگا ہے میرے حق میں کچھ تو لکھو عدل ترازو ڈول رہا ہے اک دوانہ شیر میں پنہاں درد پرایا بانٹ رہا ہے

مزید پڑھیے

تو بھی وفا کے روپ میں اب ڈھل کے دیکھ لے

تو بھی وفا کے روپ میں اب ڈھل کے دیکھ لے اس آگ میں ہماری طرح جل کے دیکھ لے دشت طلب میں پیار کے غنچے بھی کھل اٹھیں کچھ روز میرے ساتھ کبھی چل کے دیکھ لے ممکن ہے کوئی صبح تمنا ہو اس کے بعد اے حسرتوں کی رات ذرا ڈھل کے دیکھ لے کچھ گرد باد غم کے امیدوں کے کچھ سراب منظر ہمارے دل میں کوئی ...

مزید پڑھیے

اب کون سی متاع سفر دل کے پاس ہے

اب کون سی متاع سفر دل کے پاس ہے اک روشنئ صبح تھی وہ بھی اداس ہے اک ایک کرکے فاش ہوئے جا رہے ہیں راز شاید یہ کائنات قرین قیاس ہے سمجھا گئی یہ تلخئ پیہم فراق کی اک مژدۂ وصال میں کتنی مٹھاس ہے ہر چیز آ رہی ہے نظر اپنے روپ میں اترا ہوا فریب نظر کا لباس ہے اک گردش دوام میں روز ازل سے ...

مزید پڑھیے

بڑھنے دے ابھی کش مکش تار نفس اور

بڑھنے دے ابھی کش مکش تار نفس اور اے گوش بر آواز ذرا دیر ترس اور ہم مائل پرواز رہے جتنی لگن سے اٹھتی ہی گئی اتنی ہی دیوار قفس اور یہ آتش شوق اور یہ دو چار پھواریں اے ابر سیہ مست ذرا کھل کے برس اور اک قافلۂ زیست بچھڑ جائے تو کیا غم آتی ہے بہت دور سے آواز جرس اور فردا میں بہاروں کے ...

مزید پڑھیے

اٹھا کے میرے ذہن سے شباب کوئی لے گیا

اٹھا کے میرے ذہن سے شباب کوئی لے گیا اندھیرے چیختے ہیں آفتاب کوئی لے گیا میں سارے کاغذات لے کے دیکھتا ہی رہ گیا ثواب کوئی لے گیا عذاب کوئی لے گیا سپرد کر کے خامشی کی مہر خوش نما مجھے لبوں سے نعرہ ہائے انقلاب کوئی لے گیا ہے اعتراف میرے ہاتھ میں جو ایک چیز تھی سنبھال کر رکھا تو ...

مزید پڑھیے

دنیا کے لئے زہر نہ کھالیں کوئی ہم بھی

دنیا کے لئے زہر نہ کھالیں کوئی ہم بھی اس بات پہ پھر شرط لگا لیں کوئی ہم بھی بہتی ہوئی گنگا ترے پانی میں نہا کر اپنے لیے نیکی نہ کما لیں کوئی ہم بھی لگتا ہے یہی ویسے گزارہ نہیں ہوگا جھوٹی ہی سہی بات بنا لیں کوئی ہم بھی ہر سال منائے گی بڑی دھوم سے دنیا اس عشق کو تہوار بنا لیں کوئی ...

مزید پڑھیے

کرنے کے سارے کام تسلی سے کیجئے

کرنے کے سارے کام تسلی سے کیجئے آغاز دن کا رات کی مرضی سے کیجئے لگتا ہے اچھا وقت پہ اپنے ہر ایک کام تاخیر جتنی کرنی ہے جلدی سے کیجئے لہروں کا جھگڑا جائے گا دونوں کناروں تک دریا کی ساری باتیں نہ کشتی سے کیجئے دیتی ہے کیوں سبھی کو کسی ایک کی سزا کچھ تو مذاکرات اس آندھی سے ...

مزید پڑھیے

کماں نہ تیر نہ تلوار اپنی ہوتی ہے

کماں نہ تیر نہ تلوار اپنی ہوتی ہے مگر یہ دنیا کہ ہر بار اپنی ہوتی ہے یہی سکھایا ہے ہم کو ہمارے لوگوں نے جو جنگ جیتے وہ تلوار اپنی ہوتی ہے زبان چڑیوں کی دنیا سمجھ نہیں سکتی قبول و رد کی یہ تکرار اپنی ہوتی ہے نہ ہاتھ سوکھ کے جھڑتے ہیں جسم سے اپنے نہ شاخ کوئی ثمر بار اپنی ہوتی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 3774 سے 4657