شاعری

مرے وجود کا محور چمکتا رہتا ہے

مرے وجود کا محور چمکتا رہتا ہے اسی سند سے مقدر چمکتا رہتا ہے کسی مزار پہ چھائی ہے خاک مفلس کی کسی مزار کا پتھر چمکتا رہتا ہے یہ کیسی رسم ہلاکت بھی پا گئی ہے رواج یہ کیسے خون کا منظر چمکتا رہتا ہے مری نگاہ کو منزل کی روشنی ہے عزیز بلا سے میل کا پتھر چمکتا رہتا ہے جو اٹھ کے خاک سے ...

مزید پڑھیے

کرتے رہے تعاقب ایام عمر بھر

کرتے رہے تعاقب ایام عمر بھر اڑتا رہا غبار بہر گام عمر بھر حسرت سے دیکھتے رہے ہر خوش خرام کو ہم صورت طیور تہ دام عمر بھر ہر چند تلخ کام تھا ہر جرعۂ حیات منہ سے لگائے بیٹھے رہے جام عمر بھر ہر شاخ نو بہار تھی آلودۂ غبار ڈھونڈا کئے نشیمن آرام عمر بھر کچھ کام آ سکیں نہ یہاں بے ...

مزید پڑھیے

دہر میں اک ترے سوا کیا ہے

دہر میں اک ترے سوا کیا ہے تو نہیں ہے تو پھر بھلا کیا ہے صلۂ ذوق مے کشی معلوم ظرف کیا شے ہے حوصلہ کیا ہے حاشیے اپنے متن ہے ان کا محتسب پھر سزا جزا کیا ہے پوچھتا ہوں ہر ایک سائے سے چاندنی کا اتا پتا کیا ہے ان کو ہے دعویٰ مسیحائی جو نہیں جانتے شفا کیا ہے کس لئے گردش مدام میں ...

مزید پڑھیے

دل میں وہ درد اٹھا رات کہ ہم سو نہ سکے

دل میں وہ درد اٹھا رات کہ ہم سو نہ سکے ایسے بکھرے تھے خیالات کہ ہم سو نہ سکے تھپکیاں دیتے رہے ٹھنڈی ہوا کے جھونکے اس قدر جل اٹھے جذبات کہ ہم سو نہ سکے آنکھیں تکتی رہیں تکتی رہیں اور تھک بھی گئیں ہائے رے پاس روایات کہ ہم سو نہ سکے یہ بھی سچ ہے کہ نہ ہشیار نہ بے دار تھے ہم یہ بھی ...

مزید پڑھیے

کرو تلاش حد آسماں ملنے نہ ملے

کرو تلاش حد آسماں ملنے نہ ملے نشان رہ گزر کارواں ملے نہ ملے چلو جلائے ہوئے مشعل یقیں دل میں کنار بحر محیط گماں ملے نہ ملے رواں دواں ہوں ہر اک موج خوش خرام کی سمت پس سراب وہ جوئے رواں ملے نہ ملے ابھی صدائے جرس گونجتی ہے کانوں میں سراغ قافلۂ رفتگاں ملے نہ ملے ابھی نہ دامن امید ...

مزید پڑھیے

پاتے ہیں کچھ کمی سی تصویر زندگی میں

پاتے ہیں کچھ کمی سی تصویر زندگی میں کیا نقش چھوڑ آئے ہم دشت بے خودی میں زنجیر آگہی سے شمشیر آگہی تک کیا کیا مقام آئے دل کی سپہ گری میں جی دیکھنے کو ترسے دیکھوں تو کس نظر سے طوفان خیرگی ہے جلووں کی روشنی میں ہستی بجائے خود ہے اک کارگاہ ہستی ہم مست بندگی میں وہ بندہ پروری ...

مزید پڑھیے

یوں ہی کٹے نہ رہ گزر مختصر کہیں

یوں ہی کٹے نہ رہ گزر مختصر کہیں پڑتے ہیں پائے شوق کہیں اور نظر کہیں موہوم و مختصر سہی پیش نظر تو ہے دیکھا کسی نے خواب یہ بار دگر کہیں مائل بہ جستجو ہیں ابھی اہل اشتیاق دنیائیں اور بھی ہیں ورائے نظر کہیں باقی ابھی قفس میں ہے اہل قفس کی یاد بکھرے پڑے ہیں بال کہیں اور پر کہیں اب ...

مزید پڑھیے

اسی نے ساتھ دیا زندگی کی راہوں میں

اسی نے ساتھ دیا زندگی کی راہوں میں وہ اک چراغ جو جلتا رہا نگاہوں میں شمیم گل سے سبک تر کرن سے نازک تر کوئی لطیف سی شے آ گئی ہے باہوں میں یہ کس کی حشر خرامی کی بات اٹھی ہے ہمارا نام پکارا گیا گواہوں میں خبر نہ تھی کہ وہی اپنی یوں خبر لیں گے شمار کرتے تھے ہم جن کو خیر خواہوں ...

مزید پڑھیے

زندگی یوں تو گزر جاتی ہے آرام کے ساتھ

زندگی یوں تو گزر جاتی ہے آرام کے ساتھ کشمکش سی ہے مگر گردش ایام کے ساتھ رفعتیں دیکھتی رہ جاتی ہیں اس کی پرواز وہ تصور کہ ہے وابستہ ترے نام کے ساتھ مل ہی جائے گی کبھی منزل مقصود سحر شرط یہ ہے کہ سفر کرتے رہو شام کے ساتھ دام ہستی ہے خوش آئند بھی دل کش بھی مگر اڑتے جاتے ہیں گرفتار ...

مزید پڑھیے

خلوت ہوئی ہے انجمن آرا کبھی کبھی

خلوت ہوئی ہے انجمن آرا کبھی کبھی خاموشیوں نے ہم کو پکارا کبھی کبھی لے دے کے ایک سایۂ دیوار آرزو دیتا ہے رہروؤں کو سہارا کبھی کبھی کس درجہ دل فریب ہیں جھونکے امید کے یہ زندگی ہوئی ہے گوارا کبھی کبھی سونپا ہے ہم نے جس کو ہر اک لمحۂ حیات اے کاش ہو سکے وہ ہمارا کبھی کبھی اے موج ...

مزید پڑھیے
صفحہ 3772 سے 4657