مرے وجود کا محور چمکتا رہتا ہے
مرے وجود کا محور چمکتا رہتا ہے اسی سند سے مقدر چمکتا رہتا ہے کسی مزار پہ چھائی ہے خاک مفلس کی کسی مزار کا پتھر چمکتا رہتا ہے یہ کیسی رسم ہلاکت بھی پا گئی ہے رواج یہ کیسے خون کا منظر چمکتا رہتا ہے مری نگاہ کو منزل کی روشنی ہے عزیز بلا سے میل کا پتھر چمکتا رہتا ہے جو اٹھ کے خاک سے ...