شاعری

جانے یہ کیسا زہر دلوں میں اتر گیا

جانے یہ کیسا زہر دلوں میں اتر گیا پرچھائیں زندہ رہ گئی انسان مر گیا بربادیاں تو میرا مقدر ہی تھیں مگر چہروں سے دوستوں کے ملمع اتر گیا اے دوپہر کی دھوپ بتا کیا جواب دوں دیوار پوچھتی ہے کہ سایہ کدھر گیا اس شہر میں فراش طلب ہے ہر ایک راہ وہ خوش نصیب تھا جو سلیقے سے مر گیا کیا کیا ...

مزید پڑھیے

ہائے اک شخص جسے ہم نے بھلایا بھی نہیں

ہائے اک شخص جسے ہم نے بھلایا بھی نہیں یاد آنے کی طرح یاد وہ آیا بھی نہیں جانے کس موڑ پہ لے آئی ہمیں تیری طلب سر پہ سورج بھی نہیں راہ میں سایا بھی نہیں وجہ رسوائی احساس ہوا ہے کیا کیا ہائے وہ لفظ جو لب تک مرے آیا بھی نہیں اے محبت یہ ستم کیا کہ جدا ہوں خود سے کوئی ایسا مرے نزدیک تو ...

مزید پڑھیے

حجاب اٹھے ہیں لیکن وہ رو بہ رو تو نہیں

حجاب اٹھے ہیں لیکن وہ رو بہ رو تو نہیں شریک عشق کہیں کوئی آرزو تو نہیں یہ خود فریبئ احساس آرزو تو نہیں تری تلاش کہیں اپنی جستجو تو نہیں سکوت وہ بھی مسلسل سکوت کیا معنی کہیں یہی ترا انداز گفتگو تو نہیں انہیں بھی کر دیا بیتاب آرزو کس نے مری نگاہ محبت کہیں یہ تو تو نہیں کہاں یہ ...

مزید پڑھیے

ہم ہیں بس اتنے ہی ساحل آشنا

ہم ہیں بس اتنے ہی ساحل آشنا خاک منزل جتنی منزل آشنا تجھ سے چھٹتے ہی یہ عالم ہے کہ اب دل کی دھڑکن بھی نہیں دل آشنا شمع بے پروانہ جلوہ بے نگر کیا ہوئے آخر وہ محفل آشنا آہ یہ طوفاں بہ کف ابر و ہوا آہ وہ یاران ساحل آشنا وقت وہ صحرا کہ جس کی گرد میں گم ہوئے جاتے ہیں منزل آشنا اس کی ...

مزید پڑھیے

مبارک ہوں تجھے خیرات کے گل

مبارک ہوں تجھے خیرات کے گل کھلیں گے پھر مرے حالات کے گل کوئی تو جیت کر بھی خوش نہیں ہے کسی کو بھا رہے ہیں مات کے گل ابھی جملوں میں ان کے ہے شرارت ابھی تازہ ہیں کچھ جذبات کے گل دعا گو ہیں کئی ہنسوں کے جوڑے کھلا دے یا خدا برسات کے گل تمہاری خوشبوئیں پہچانتا ہوں یہ لگتے ہیں تمہارے ...

مزید پڑھیے

گردن میں طوق پاؤں میں زنجیر دیکھ کر

گردن میں طوق پاؤں میں زنجیر دیکھ کر حیرت ہوئی ہے دوست کی تصویر دیکھ کر کل رات ہم نے خوب ستاروں کی سیر کی کوئی بتائے خواب کی تعبیر دیکھ کر عشق و وفا خلوص سے انجان ہیں وہ لوگ رشتہ نبھا رہے ہیں جو جاگیر دیکھ کر پل میں بدلتے وقت نے منظر بدل دیا دل رو رہا تھا کل مرا کشمیر دیکھ کر تم ...

مزید پڑھیے

تری خدمات میں بیٹھے ہوئے ہیں

تری خدمات میں بیٹھے ہوئے ہیں کہ سب اوقات میں بیٹھے ہوئے ہیں چھپانا چاہتے ہیں اپنے آنسو سو ہم برسات میں بیٹھے ہوئے ہیں بہت دشوار ہے گھر سے نکلنا عدو سب گھات میں بیٹھے ہوئے ہیں ہمارے نام میں جتنے ہیں اکھشر تری ہر بات میں بیٹھے ہوئے ہیں پرندوں گھونسلوں میں رہنا اپنے شکاری گھات ...

مزید پڑھیے

اگر کر لیں ترا دیدار آنکھیں

اگر کر لیں ترا دیدار آنکھیں تو اچھی کیوں نہ ہوں بیمار آنکھیں برسنے لگتی ہیں آنکھیں ہماری تری گاتی ہیں جب ملہار آنکھیں اگر دیکھوں تجھے تو کیسے دیکھوں میں رکھ آیا سمندر پار آنکھیں سزائیں ملتی ہیں ہر بار مجھ کو خطائیں کرتی ہیں ہر بار آنکھیں تمہاری دید کو دو آنکھیں کم ہیں مجھے ...

مزید پڑھیے

کہیں تو ہو طرف داری ہماری

کہیں تو ہو طرف داری ہماری کبھی تو پیٹھ ہو بھاری ہماری تمہاری گفتگو سے لگ رہا ہے ہے خوشبو جانی پہچانی ہماری اسی امید پر زندہ ہیں آنکھیں کبھی تو آئے گی باری ہماری ابھی ہے کھیل میں ملنا بچھڑنا کہاں تک جائے گی پاری ہماری زمیں کی چھاؤں سب تم کو مبارک چلو جو دھوپ ہے ساری ہماری

مزید پڑھیے

اس کو جتنا بھلا رہا ہوں میں

اس کو جتنا بھلا رہا ہوں میں اتنا نزدیک پا رہا ہوں میں سنگ تو آج ہوں میں اس کے لیے مدتوں آئنہ رہا ہوں میں جو اٹھاتے نہیں ہے فون تلک ان کے نخرے اٹھا رہا ہوں میں مجھ کو قرآں پڑھا رہے ہیں وہ ان کو گیتا پڑھا رہا ہوں میں اور کچھ دیر مجھ سے باتیں کر تیری باتوں میں آ رہا ہوں میں جانے کس ...

مزید پڑھیے
صفحہ 369 سے 4657