اندھیری شب میں چراغ رہ وفا دینا
اندھیری شب میں چراغ رہ وفا دینا تعلقات کو نزدیک سے صدا دینا جہاں کھڑی ہوں وہاں سے پلٹ نہیں سکتی ابھی نہ مجھ کو محبت کا واسطہ دینا میں بے بسی کا سلیقہ نبھاؤں گی کب تک بڑھے جو پیاس چراغ صدا بجھا دینا بجھے بجھے سبھی منظر ہیں آشنائی کے مرے لبوں کو کوئی حرف مدعا دینا امید ہاتھ سے ...