شاعری

اندھیری شب میں چراغ رہ وفا دینا

اندھیری شب میں چراغ رہ وفا دینا تعلقات کو نزدیک سے صدا دینا جہاں کھڑی ہوں وہاں سے پلٹ نہیں سکتی ابھی نہ مجھ کو محبت کا واسطہ دینا میں بے بسی کا سلیقہ نبھاؤں گی کب تک بڑھے جو پیاس چراغ صدا بجھا دینا بجھے بجھے سبھی منظر ہیں آشنائی کے مرے لبوں کو کوئی حرف مدعا دینا امید ہاتھ سے ...

مزید پڑھیے

کچھ تو محبتوں کی وفائیں نبھاؤں میں

کچھ تو محبتوں کی وفائیں نبھاؤں میں شاداب بارشوں کی ہوائیں نبھاؤں میں اتنے قریب آؤ بدن بھی سنائی دے گزرے دنوں کی نرم صدائیں نبھاؤں میں دل بھی تو چاہتا ہے کہ سبزہ کہیں کھلے بنجر زمیں پہ کالی گھٹائیں نبھاؤں میں دریا کی لہر پیاسے کناروں کو سونپ دوں معصوم آرزو کی خطائیں نبھاؤں ...

مزید پڑھیے

اکثر مری زمیں نے مرے امتحاں لئے

اکثر مری زمیں نے مرے امتحاں لئے زندہ ہوں اپنے سر پہ کئی آسماں لئے بے چارگی کبھی مجھے ثابت نہ کر سکی کیا کیا مری حیات نے میرے بیاں لئے اپنی صداقتوں سے بھی لگنے لگا ہے ڈر چلنا ہے اس زمیں پہ سراب گماں لئے اور میں کہ اپنی ذات سے نسبت نہیں مری ہر شخص پھر رہا ہے مری داستاں لئے مانگی ...

مزید پڑھیے

وہ آنکھ دے قریب کا سایہ دکھائی دے

وہ آنکھ دے قریب کا سایہ دکھائی دے آواز روشنی کی کہیں تو سنائی دے جس نام کو جیا ہے بڑے اعتماد سے اس کو بھی زندگی سے کبھی آشنائی دے ایسا ہوا تو جینے نہ دیں گے کسی کو لوگ انساں کے ہاتھ میں نہ مرے رب خدائی دے میں جانتی ہوں پاؤں رکھے ہیں مرے کہاں خود سے کروں سوال کوئی جب بڑائی دے کب ...

مزید پڑھیے

کہیں دعا تو کہیں حرف التجا ٹھہری

کہیں دعا تو کہیں حرف التجا ٹھہری میں اپنے آپ میں ڈوبی تو بے صدا ٹھہری میں جانتی ہوں سلامت نہیں کوئی دامن یہ روشنی بھی کہاں کس کا آئنہ ٹھہری سفر تھا شرط مگر جب بھی ایک نام آیا قدم تو چلتے رہے روح جا بجا ٹھہری تو درمیاں میں ملا درمیاں میں چھوٹ گیا جو ابتدا تھی مری حد انتہا ...

مزید پڑھیے

آسماں سے صحیفے اترتے رہے

آسماں سے صحیفے اترتے رہے روشنی سے مگر لوگ ڈرتے رہے زندگی اتنی مجبور سی ہو گئی حادثے مجھ کو اشکوں سے بھرتے رہے جن کو سب کچھ ملا ان کو سب کچھ ملا جو بکھرتے رہے بس بکھرتے رہے بن گئیں جب بھی ہم راز تنہائیاں دل کی ہر بات ہم دل سے کرتے رہے آتے جاتے نظر تجھ سے ملتی رہی آئنہ زاویوں پر ...

مزید پڑھیے

زندہ باد اے دشت کے منظر زندہ باد

زندہ باد اے دشت کے منظر زندہ باد شہر میں ہے جلتا ہوا ہر گھر زندہ باد کتنے نو عمروں کے قصے پاک کیے کرفیو میں چلتا ہوا خنجر زندہ باد تیرے میرے رشتوں کے سنگین گواہ ٹوٹی مسجد جلتا مندر زندہ باد آگ لگی ہے من کے باہر کیا کہیے پھول کھلے ہیں من کے اندر زندہ باد دل پر اک گھنگھور گھٹا سی ...

مزید پڑھیے

ہم کبھی خود سے کوئی بات نہیں کر پاتے

ہم کبھی خود سے کوئی بات نہیں کر پاتے زندگی تجھ سے ملاقات نہیں کر پاتے بیٹھ جاتا ہے جہاں درد تھکا ہارا سا خواب بھی اس سے سوالات نہیں کر پاتے ان سے پھر اور کسی شے کی توقع کیسی چند لمحے بھی جو خیرات نہیں کر پاتے زندگی بے سر و ساماں ہی گزر جاتی ہے دن جو کر لیتے ہیں وہ رات نہیں کر ...

مزید پڑھیے

اکثر تنہائی سے مل کر روئے ہیں

اکثر تنہائی سے مل کر روئے ہیں ہم نے اپنے اشک آگ سے دھوئے ہیں بہت نبھائی لین دین کی رسمیں بھی کچھ آنسو پائے ہیں کچھ غم کھوئے ہیں جب بھی بارش نے مٹی سے منہ موڑا جلتے سورج نے ذرات بھگوئے ہیں خبر جہاں ملتی ہے اپنے ہونے کی ہم اس منزل پر بھی کھوئے کھوئے ہیں جب خود کو پانا ہی مشکل کام ...

مزید پڑھیے

اک تعلق سا کسی نام سے جب ہوتا ہے

اک تعلق سا کسی نام سے جب ہوتا ہے بے سبب بھی کوئی جینے کا سبب ہوتا ہے بارہا سوچا مگر تم کو بتا بھی نہ سکی غم کا احساس مری روح کو کب ہوتا ہے ڈھونڈھتا رہتا ہے اکثر مرے اندر تجھ کو میری تنہائی کا عالم بھی عجب ہوتا ہے یوں بظاہر سبھی انجان نظر آتے ہیں جانتے سب ہیں کہ اس شہر میں سب ہوتا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 370 سے 4657