شاعری

ہم ترا عہد محبت ٹھہرے

ہم ترا عہد محبت ٹھہرے لوح نسیاں کی جسارت ٹھہرے دل لہو کر کے یہ قسمت ٹھہرے سنگ فن کار کی اجرت ٹھہرے مقتل جاں کی ضرورت ٹھہرے ہم کہ شایان محبت ٹھہرے کیا قیامت ہے وہ قاتل مجھ میں میرے احساس کی صورت ٹھہرے وقت کے دجلۂ طوفانی میں آپ ہم موجۂ عجلت ٹھہرے دوستی یہ ہے کہ خوشبو کے لیے رنگ ...

مزید پڑھیے

کسی سے اور تو کیا گفتگو کریں دل کی

کسی سے اور تو کیا گفتگو کریں دل کی کہ رات سن نہ سکے ہم بھی دھڑکنیں دل کی مگر یہ بات خرد کی سمجھ میں آ نہ سکی وصال و ہجر سے آگے ہیں منزلیں دل کی جلو میں خواب نما رت جگے سجائے ہوئے کہاں کہاں لیے پھرتی ہیں وحشتیں دل کی نگاہ ملتے ہی رنگ حیا کی صورت ہیں چھلک اٹھیں ترے رخ سے لطافتیں دل ...

مزید پڑھیے

نظر نہ آئے تو کیا وہ مرے قیاس میں ہے

نظر نہ آئے تو کیا وہ مرے قیاس میں ہے وہ ایک جھوٹ جو سچائی کے لباس میں ہے عمل سے میرے خیالوں کا منہ چڑھاتا ہے وہ ایک شخص کہ پنہاں مرے لباس میں ہے ابھی جراحت سر ہی علاج ٹھہرا ہے کہ نبض سنگ کسی دست بے قیاس میں ہے شجر سے سایہ جدا ہے تو دھوپ سورج سے سفر حیات کا کس دشت بے قیاس میں ...

مزید پڑھیے

اے دل خود نا شناس ایسا بھی کیا

اے دل خود نا شناس ایسا بھی کیا آئینہ اور اس قدر اندھا بھی کیا اس کو دیکھا بھی مگر دیکھا بھی کیا عرصۂ خواہش میں اک لمحہ بھی کیا درد کا رشتہ بھی ہے تجھ سے بہت اور پھر یہ درد کا رشتہ بھی کیا زندگی خود لاکھ زہروں کا تھی زہر زہر غم تجھ سے مرا ہوتا بھی کیا پوچھتا ہے راہرو سے یہ ...

مزید پڑھیے

اک ایسا مرحلۂ رہ گزر بھی آتا ہے

اک ایسا مرحلۂ رہ گزر بھی آتا ہے کوئی فصیل انا سے اتر بھی آتا ہے تری تلاش میں جانے کہاں بھٹک جاؤں سفر میں دشت بھی آتا ہے گھر بھی آتا ہے تلاش سائے کی لائی جو دشت سے تو کھلا عذاب صورت دیوار و در بھی آتا ہے سکوں تو جب ہو کہ میں چھاؤں صحن میں دیکھوں نظر تو ویسے گلی کا شجر بھی آتا ...

مزید پڑھیے

ذہن و دل میں کچھ نہ کچھ رشتہ بھی تھا

ذہن و دل میں کچھ نہ کچھ رشتہ بھی تھا اے محبت میں کبھی یکجا بھی تھا مجھ میں اک موسم کبھی ایسا نہ تھا ایسا موسم جس میں تو مہکا بھی تھا تجھ سے ملنے کس طرح ہم آئے ہیں راستے میں خون کا دریا بھی تھا کج کلاہوں پر کہاں ممکن ستم ہاں مگر اس نے مجھے چاہا بھی تھا آج خود سایہ طلب ہے وقت سے یہ ...

مزید پڑھیے

کب تک اس پیاس کے صحرا میں جھلستے جائیں

کب تک اس پیاس کے صحرا میں جھلستے جائیں اب یہ بادل جو اٹھے ہیں تو برستے جائیں کون بتلائے تمہیں کیسے وہ موسم ہیں کہ جو مجھ سے ہی دور رہیں مجھ میں ہی بستے جائیں ہم سے آزاد مزاجوں پہ یہ افتاد ہے کیا چاہتے جائیں اسے خود کو ترستے جائیں ہائے کیا لوگ یہ آباد ہوئے ہیں مجھ میں پیار کے لفظ ...

مزید پڑھیے

عقل نے ہم کو یوں بھٹکایا رہ نہ سکے دیوانے بھی

عقل نے ہم کو یوں بھٹکایا رہ نہ سکے دیوانے بھی آبادی کو ڈھونڈنے نکلے کھو بیٹھے ویرانے بھی چشم ساقی بھی نم ہے لو دیتے ہیں پیمانے بھی تشنہ لبی کے سیل تپاں سے بچ نہ سکے میخانے بھی سنگ جفا کو خوش خبری دو مژدہ دو زنجیروں کو شہر خرد میں آ پہنچے ہیں ہم جیسے دیوانے بھی ہم نے جب جس دوست ...

مزید پڑھیے

مقتل جاں سے کہ زنداں سے کہ گھر سے نکلے

مقتل جاں سے کہ زنداں سے کہ گھر سے نکلے ہم تو خوشبو کی طرح نکلے جدھر سے نکلے گر قیامت یہ نہیں ہے تو قیامت کیا ہے شہر جلتا رہا اور لوگ نہ گھر سے نکلے جانے وہ کون سی منزل تھی محبت کی جہاں میرے آنسو بھی ترے دیدۂ تر سے نکلے دربدری کا ہمیں طعنہ نہ دے اے چشم غزال دیکھ وہ خواب کہ جس کے ...

مزید پڑھیے

ناز کر ناز کہ یہ ناز جدا ہے سب سے

ناز کر ناز کہ یہ ناز جدا ہے سب سے میرا لہجہ مری آواز جدا ہے سب سے جز محبت کسے معلوم کہ وہ چشم حیا بات تو کرتی ہے انداز جدا ہے سب سے جس کو بھی مار دیا زندۂ جاوید کیا حرف حق تیرا یہ اعجاز جدا ہے سب سے دیکھنا کون ہے کیا اس کو نہیں جان عزیز سر دربار اک آواز جدا ہے سب سے ٹوٹ جاتا ہے تو ...

مزید پڑھیے
صفحہ 368 سے 4657