شاعری

آؤ دیکھو یہیں ہے دروازہ

آؤ دیکھو یہیں ہے دروازہ تھے جہاں ہم وہیں ہیں دروازہ لوٹتا ہوں نہ گھر کو جب تک میں بند ہوتا نہیں ہے دروازہ آج کل کیوں ہمیں ترے گھر کا یاد آتا نہیں ہے دروازہ دیکھ پاتے ہیں کب کوئی صورت آئنہ تو نہیں ہے دروازہ زندگی کے قریب جانے کا سن رہا ہوں کہیں ہے دروازہ

مزید پڑھیے

میں انساں تھا خدا ہونے سے پہلے

میں انساں تھا خدا ہونے سے پہلے انا الحق کی انا ہونے سے پہلے صلہ تھا عمر بھر کی چاہتوں کا وہ اک لمحہ جدا ہونے سے پہلے نہ جانے کس قدر مصروف ہوگا ترا وعدہ وفا ہونے سے پہلے تو میری چاہتوں میں گم ہوا ہے میں خوشبو تھا ترا ہونے سے پہلے مری گہرائیوں میں راز تیرے میں برسا ہوں گھٹا ہونے ...

مزید پڑھیے

ہر گھڑی ہر وقت ہی بازار میں رہنا پڑا

ہر گھڑی ہر وقت ہی بازار میں رہنا پڑا بیچنا تھا خود کو سو اخبار میں رہنا پڑا ایک ہی تحریر کو پانی پہ لکھا بار بار رہنا تھا بس اس لیے سنسار میں رہنا پڑا خواہشیں تو تھیں کہ ہم بنیاد کا پتھر بنیں ہائے کیسا جرم تھا دیوار میں رہنا پڑا پھر کسی سے دوستی اس نے نہ میرے بعد کی عمر بھر مجھ ...

مزید پڑھیے

کسی بھی رہنمائی کا کوئی دعویٰ نہیں کرتے

کسی بھی رہنمائی کا کوئی دعویٰ نہیں کرتے غزل کے پیرہن کو ہم مگر میلا نہیں کرتے ہماری چاہتوں نے تو بڑے اقرار دیکھے ہیں کسی انکار پر ہم دل کبھی چھوٹا نہیں کرتے سرابوں کی حقیقت سے بہت اچھے سے واقف ہیں کبھی بھی خواب کا ہم دن میں تو پیچھا نہیں کرتے یہاں ہر شے کی قیمت بس محبت ہی محبت ...

مزید پڑھیے

تھکے جسموں تھکی روحوں کے سب معنی بدلتے ہیں

تھکے جسموں تھکی روحوں کے سب معنی بدلتے ہیں وصال ہجر کے موسم میں عریانی بدلتے ہیں گھروں میں بیٹھے بیٹھے زنگ لگ جاتا ہے جسموں کو چلو تالاب کا ٹھہرا ہوا پانی بدلتے ہیں بدلتی دیکھی ہے دنیا فقط آنکھوں نے ہی اب تک چلو اک کام کرتے ہیں کہ حیرانی بدلتے ہیں بڑی مشکل سے دو مصرعوں میں ...

مزید پڑھیے

آنکھ میں تیری شکل ہے دل میں ترا جمال ہے

آنکھ میں تیری شکل ہے دل میں ترا جمال ہے کس کو یہ فرصت خیال ہجر ہے یا وصال ہے اس کی شکستگی نہ دیکھ اس کے فروغ پر نہ جا عشق تو حسن ہی کا ایک پرتو لا یزال ہے تیری نظر کی بجلیاں کوند گئیں کہاں کہاں فرش سے عرش تک تمام روشنیٔ جمال ہے پہلے تھا اضطراب دل روح روان عاشقی راہ فنا میں اب یہی ...

مزید پڑھیے

زمیں سے آسماں تک آسماں سے لا مکاں تک ہے

زمیں سے آسماں تک آسماں سے لا مکاں تک ہے ذرا پرواز مشت خاک تو دیکھو کہاں تک ہے تلاش و جستجو کی حد فقط نام و نشاں تک ہے سراغ کارواں بھی بس غبار کارواں تک ہے جبین شوق کو کچھ اور بھی اذن سعادت دے یہ ذوق بندگی محدود سنگ آستاں تک ہے سراپا آرزو بن کر کمال مدعا ہو جا وہ ننگ عشق ہے جو آرزو ...

مزید پڑھیے

رونق دل نکھار کر رہیے

رونق دل نکھار کر رہیے اس کا غم ہے سنوار کر رکھیے چاہے چھوٹی ہو عشق کی چادر پاؤں اپنے پسار کر رکھیے آئیے کھل کے بات کرتے ہیں پہلے چہرہ اتار کر رکھیے اس میں خیرات پڑنے والی ہے اپنا برتن سنوار کر رکھیے جب تلک لوٹ کر نہ آئے وہ اس کو تب تک پکار کر رکھیے روح واپس پلٹنے والی ہے جسم ...

مزید پڑھیے

ٹھہرے جذبات کے دریا کو روانی دے کر

ٹھہرے جذبات کے دریا کو روانی دے کر ہم نے کردار بچایا ہے کہانی دے کر حد سے بڑھ جائے تو ہر چیز بری ہوتی ہے میں نے اک فصل جلا ڈالی ہے پانی دے کر اس نئے لہجے سے دل ڈوبنے لگتا ہے مرا تم پکارو مجھے آواز پرانی دے کر اب مجھے پیاس نبھانے کا ہنر آتا ہے خاک صحرا میں اڑائی ہے جوانی دے ...

مزید پڑھیے

رت جگے میں بھی اک خماری ہے

رت جگے میں بھی اک خماری ہے خواب ہلکا ہے نیند بھاری ہے دیکھو کس کا نصیب بدلے گا سانپ نے کینچلی اتاری ہے ہوش مندوں کے اس خرابے میں ہم دیوانوں کا رقص جاری ہے اب اسے کون دیکھ سکتا ہے ہم نے اس کی نظر اتاری ہے خواب کا دام ہم لگائیں گے عمر اک جاگتے گزاری ہے اب تو شادی کی فکر ہے اس ...

مزید پڑھیے
صفحہ 349 سے 4657