شاعری

گھر ہمارے خاک ٹیلے ہو گئے

گھر ہمارے خاک ٹیلے ہو گئے لوگ اپنے ہی وسیلے ہو گئے رات اس ناگن نے ہم کو یوں ڈسا دیکھ اپنے ہونٹ نیلے ہو گئے بات کس سے کر رہا ہوں فون پر سوچ کر وہ لال پیلے ہو گئے تم یہاں پر شاعری کرتے رہے اور اس کے ہاتھ پیلے ہو گئے سوچ تیرا نام کھائے جو گئے نیم کے پتے رسیلے ہو گئے

مزید پڑھیے

ترے غرور مرے ضبط کا سوال رہا

ترے غرور مرے ضبط کا سوال رہا بکھر بکھر کے تجھے چاہنا کمال رہا وہیں پے ڈوبنا آرام سے ہوا ممکن جہاں پہ موج و سفینہ میں اعتدال رہا نہیں کہ شام ڈھلے تم نہ لوٹتے لیکن تمہاری راہ میں سورج ہی لا زوال رہا پھر اپنا ہاتھ کلیجہ پہ رکھ لیا ہم نے پھر اس کے پاؤں کی آہٹ کا احتمال رہا

مزید پڑھیے

اس گلی تک سڑک رہی ہوگی

اس گلی تک سڑک رہی ہوگی راہ اب بھی وہ تک رہی ہوگی رشک بادل کو بھی ہوا ہوگا دھوپ اس پر چمک رہی ہوگی میں بھی کب میں ہوں ایسے موسم میں وہ بھی خود میں بہک رہی ہوگی دشت و صحرا کی اوٹ میں شاید یہ زمیں زخم ڈھک رہی ہوگی وہ بہت اجنبی سا پیش آیا دل میں کوئی کسک رہی ہوگی جو شجر صحن میں لگا ...

مزید پڑھیے

جس بھی جگہ دیکھی اس نے اپنی تصویر ہٹا لی تھی

جس بھی جگہ دیکھی اس نے اپنی تصویر ہٹا لی تھی میرے دل کی دیواروں پر دیمک لگنے والی تھی ایک پرندہ اڑنے کی کوشش میں گر گر جاتا تھا گھر جانا تھا اس کو پر وہ رات بہت ہی کالی تھی آنگن میں جو دیپ قطاروں میں رکھے تھے دھواں ہوئے ہوا چلی اس رات بہت جب میرے گھر دیوالی تھی اک مدت پر گھر لوٹا ...

مزید پڑھیے

تیرے پہلو یا درمیاں نکلے

تیرے پہلو یا درمیاں نکلے ایک جاں ہے کہاں کہاں نکلے اس طرح سے کبھی سمیٹ مجھے میرے کھلنے پر اک جہاں نکلے سوچتا ہوں یوں نہ ہو اک دن یہ زمیں کوئی آسماں نکلے آ تری سانس سانس پی لوں میں جسم سے روح کا دھواں نکلے

مزید پڑھیے

سوچنا بھی عجیب عادت ہے

سوچنا بھی عجیب عادت ہے یہ بھی تو سوچنے کی صورت ہے اب مجھے آپ چھوڑ جائیے گا اب مجھے آپ کی ضرورت ہے میری سگریٹ پہ اعتراض تو ہیں کیا مجھے چومنے کی حسرت ہے بس اپنے آپ میں الجھا ہوا ہے اسے کہہ دو کہ شعر اچھا ہوا ہے سمندر کی چٹائی کھینچ لو اب بہت دن سے یہیں بیٹھا ہوا ہے بنا تھا تم نے ...

مزید پڑھیے

کوئی لے گا نہیں بدلا ہمارا

کوئی لے گا نہیں بدلا ہمارا ہمیں کو قتل ہے کرنا ہمارا نچھاور جان بھی ہے اس پہ کرنی ابھی طے بھی نہیں مرنا ہمارا ہمارے ہونٹ کے صحرا تمہارے تمہاری آنکھ کا دریا ہمارا ابھی اک شعر کہنا رہ گیا ہے ابھی نکلا نہیں کانٹا ہمارا

مزید پڑھیے

نم آنکھوں میں کیا کر لے گا غصہ دیکھیں گے

نم آنکھوں میں کیا کر لے گا غصہ دیکھیں گے اوس کے اوپر چنگاری کا لہجہ دیکھیں گے شیشے کے بازار سے لے آئیں گے کچھ چہرے وہی پہن کر ہم گھر کا بھی شیشہ دیکھیں گے کتنی دور تلک جائے گی ضبط کی یہ کشتی کتنا گہرا ہے اس درد کا دریا دیکھیں گے دریا کے پیچھے پیچھے ہم صحرا تک آئے کس منزل کو لے ...

مزید پڑھیے

اب کہاں درد جسم و جان میں ہے

اب کہاں درد جسم و جان میں ہے دفن ہے دل بدن دکان میں ہے دن ڈھلے روز یوں لگے جیسے کوئی مجھ سا مرے مکان میں ہے دل کا کچھ بھی پتا نہیں چلتا ہاتھ میں ہے کہ آسمان میں ہے چھاؤں کے پل جلا دیے سارے اف وہ سورج جو سائبان میں ہے کیوں نہ تشبیہ پھول ہو اس کی وہ جو خوشبو سا داستان میں ہے اک ...

مزید پڑھیے

تمام ریت پہ بکھرا ہے تن اداسی کا

تمام ریت پہ بکھرا ہے تن اداسی کا وہ لہر ہے یا کوئی پیرہن اداسی کا ہے اک دریچہ جہاں سے وہ دیکھتی ہے اتیت سو لگ گیا مرے کمرے میں من اداسی کا میں اس کی چھاؤں میں بیٹھوں تو جسم جلتا ہے مرے شجر پہ لگا ہے گہن اداسی کا ہمارے عشق کو قدرت نے جان بخشی ہے تم اک سکوت ہو اور میں ہوں بن اداسی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 342 سے 4657