شاعری

رہی ہے یوں ہی ندامت مجھے مقدر سے

رہی ہے یوں ہی ندامت مجھے مقدر سے گزر رہی ہے صبا جس طرح مرے گھر سے چڑھا ہے شوق مجھے ضبط آزمانے کا لکھوں فسانہ کوئی آئنہ پے پتھر سے مسافروں سا کبھی جب میں شہر سے گزرا تو راستوں میں کئی راستے تھے بنجر سے تمہارے غم نے ڈبویا ہے پر پکارو تو میں لوٹ آؤں اسی پل کسی سمندر سے مزے کی ٹھنڈ ...

مزید پڑھیے

باتوں باتوں میں ہی عنوان بدل جاتے ہیں

باتوں باتوں میں ہی عنوان بدل جاتے ہیں کتنی رفتار سے انسان بدل جاتے ہیں چوریاں ہو نہیں پاتیں تو یہی ہوتا ہے اپنی بستی کے نگہبان بدل جاتے ہیں کوئی منزل ہی نہیں ٹھہریں مرادیں جس پر وقت بدلے بھی تو ارمان بدل جاتے ہیں اس کے دامن سے امیدوں کے گلوں کو چن کر زندگی کے سبھی امکان بدل ...

مزید پڑھیے

اب ہم چراغ بن کے سر راہ جل اٹھے

اب ہم چراغ بن کے سر راہ جل اٹھے دیکھیں تو کس طرح سے بھٹکتے ہیں قافلے جو منتظر تھے بات کے منہ دیکھتے رہے خاموش رہ کے ہم تو بڑی بات کہہ گئے کب منزلوں نے چومے قدم ان کے ہمدمو ہر راہ روکے ساتھ جو رہ گیر چل پڑے جانے زباں کی بات تھی یا رنگ روپ کی ہم آپ اپنے شہر میں جو اجنبی رہے وہ لوگ ...

مزید پڑھیے

ہم نے گھٹتا بڑھتا سایا پگ پگ چل کر دیکھا ہے

ہم نے گھٹتا بڑھتا سایا پگ پگ چل کر دیکھا ہے ہر راہی اک دھندلا پن ہے ہر جادہ اک دھوکا ہے ہم بھی کسی لمحے کی انگلی تھام کے اک دن چل دیں گے تو نے تو اے جانے والے جانے کو کیا جانا ہے ماضی کی بے نام گپھا میں بیٹھے بیٹھے سوچتے ہیں نگر نگر ہے شہرت اپنی گھر گھر اپنا چرچا ہے ہم تم دونوں ...

مزید پڑھیے

شہر بیزار رہ گزر تنہا

شہر بیزار رہ گزر تنہا زندگی اٹھ چلی کدھر تنہا میری رگ رگ میں دھول رقصاں ہے مجھ میں موجود ہے کھنڈر تنہا دشت کی ناتمام راہوں پر کوئی ساتھی ہے تو شجر تنہا تیری آہٹ سجا کے پلکوں پر ڈھونڈھتی ہے تجھے نظر تنہا ہو کے بے نور رات کہلائی چاند کو ڈھونڈھتی سحر تنہا سنگ بھی دل بھی اور ...

مزید پڑھیے

بیتے وقت کا چہرہ ڈھونڈھتا رہتا ہے

بیتے وقت کا چہرہ ڈھونڈھتا رہتا ہے دل پاگل ہے کیا کیا ڈھونڈھتا رہتا ہے خاموشی بھی ایک صدا ہی ہے جس کو سننے والا گویا ڈھونڈھتا رہتا ہے شبنم شبنم پگھلی پگھلی یادیں ہیں میرا غم تو صحرا ڈھونڈھتا رہتا ہے اس نے اپنی منزل حاصل کر لی ہے پھر کیوں گھر کا رستہ ڈھونڈھتا رہتا ہے دل سب سے ...

مزید پڑھیے

بارہ چاند گئے پونم کے پیار بھرا اک ساون بھی

بارہ چاند گئے پونم کے پیار بھرا اک ساون بھی گئے دنوں میں سال بھی گزرا اور گیا کچھ جیون بھی جشن جیت کا کون منائے کون اٹھائے ہار کا غم عکس مرا بھی بکھرا سا ہے ٹوٹ گیا وہ درپن بھی میرے قد کو ماپنے والے شاید تجھ کو یاد نہیں انگلی پر ہی اٹھ جاتا ہے کبھی کبھی گوردھن بھی پہلے تو آغاز ...

مزید پڑھیے

کسی سوکھے ہوئے شجر سا ہوں

کسی سوکھے ہوئے شجر سا ہوں ایک لمحے میں عمر بھر سا ہوں تم ہنسو اور مسکراؤں میں شمس تم ہو تو میں قمر سا ہوں کوئی مجھ میں نظر نہیں آتا ایک ویران رہ گزر سا ہوں وقت اک جھیل سا ہوا مجھ میں کوئی ٹھہرا ہوا سا عرصہ ہوں تجھ میں کتنی نمی چلی آئی جب سے تیری زمیں پہ برسا ہوں تم مری زندگی کے ...

مزید پڑھیے

جس جگہ بھی ملا گھنا سایا

جس جگہ بھی ملا گھنا سایا ہم نے کچھ دیر کو سکوں پایا ہم نوید سحر میں غلطاں تھے ظلمت شب نے آ کے چونکایا ہم مقدر ہیں دھوپ کا یارو ہم پہ ہنستا ہے کس لیے سایا ہو چلے تھے دیار غیر کے ہم تیری یادوں نے دام پھیلایا ہم گھنی چھاؤں سے نکل بھاگے جب بھی سورج عروج پر آیا

مزید پڑھیے

تنہائی میں دکھتے لمحے جب کچھ یاد دلاتے ہیں

تنہائی میں دکھتے لمحے جب کچھ یاد دلاتے ہیں سائے سائے کتنے چہرے آنکھوں میں پھر جاتے ہیں اب تو اچھے دل والوں کا قحط سا پڑتا جاتا ہے لیکن نقلی چہرے والے دل اپنا بھرماتے ہیں چھو جاتی ہے جب بھی آ کر یادوں کی پروائی سی ننھے ننھے کتنے دیپک پلکوں میں جل جاتے ہیں اپنوں میں بیگانہ بن کر ...

مزید پڑھیے
صفحہ 343 سے 4657