آنکھ میں جلوہ ترا دل میں تری یاد رہے
آنکھ میں جلوہ ترا دل میں تری یاد رہے یہ میسر ہو تو پھر کیوں کوئی ناشاد رہے اس زمانے میں خموشی سے نکلتا نہیں کام نالہ پر شور ہو اور زوروں پہ فریاد رہے درد کا کچھ تو ہو احساس دل انساں میں سخت ناشاد ہے دائم جو یہاں شاد رہے اے ترے دام محبت کے دل و جاں صدقے شکر ہے قید علائق سے ہم آزاد ...