شاعری

آنکھ میں جلوہ ترا دل میں تری یاد رہے

آنکھ میں جلوہ ترا دل میں تری یاد رہے یہ میسر ہو تو پھر کیوں کوئی ناشاد رہے اس زمانے میں خموشی سے نکلتا نہیں کام نالہ پر شور ہو اور زوروں پہ فریاد رہے درد کا کچھ تو ہو احساس دل انساں میں سخت ناشاد ہے دائم جو یہاں شاد رہے اے ترے دام محبت کے دل و جاں صدقے شکر ہے قید علائق سے ہم آزاد ...

مزید پڑھیے

نالوں سے اگر میں نے کبھی کام لیا ہے

نالوں سے اگر میں نے کبھی کام لیا ہے خود ہی اثر نالہ سے دل تھام لیا ہے آزادئ اندوہ فزا سے ہے رہائی اب میں نے کچھ آرام تہ دام لیا ہے اٹھتی تھیں امنگیں انہیں بڑھنے نہ دیا پھر میں نے دل ناکام سے اک کام لیا ہے جز مشغلۂ نالہ و فریاد نہ تھا کچھ جو کام کہ دل سے سحر و شام لیا ہے خود پوچھ ...

مزید پڑھیے

پیمان وفائے یار ہیں ہم

پیمان وفائے یار ہیں ہم یعنی ناپائیدار ہیں ہم خاک سر رہ گزار ہیں ہم پامال جفائے یار ہیں ہم نومیدی و یاس چار سو ہے اف کس کے امیدوار ہیں ہم کس دشمن جاں کی آرزو ہے جو موت کے خواست گار ہیں ہم تو ہم سے ہے بدگماں صد افسوس تیرے ہی تو جاں نثار ہیں ہم وحشتؔ خاموش جل رہے ہیں گویا شمع مزار ...

مزید پڑھیے

کسی صورت سے اس محفل میں جا کر

کسی صورت سے اس محفل میں جا کر مقدر ہم بھی دیکھیں آزما کر تغافل کیش میں نے ہی بنایا اسے حال دل شیدا سنا کر اٹھا لینے سے تو دل کے رہا میں تو اب ظالم وفا کر یا جفا کر ترے گلشن میں پہنچے کاش اک دن نسیم آشنائی راہ پا کر خوشی ان کو مبارک ہو الٰہی وہ خوش ہیں خاک میں مجھ کو ملا کر دہن ہے ...

مزید پڑھیے

کسی طرح دن تو کٹ رہے ہیں فریب امید کھا رہا ہوں

کسی طرح دن تو کٹ رہے ہیں فریب امید کھا رہا ہوں ہزارہا نقش آرزو کے بنا رہا ہوں مٹا رہا ہوں وفا مری معتبر ہے کتنی جفا وہ کر سکتے ہیں کہاں تک جو وہ مجھے آزما رہے ہیں تو میں انہیں آزما رہا ہوں کسی کی محفل کا نغمۂ نے محرک نالہ و فغاں ہے فسانۂ عیش سن رہا ہوں فسانۂ غم سنا رہا ہوں زمانہ ...

مزید پڑھیے

تلخی کش نومیدئ دیدار بہت ہیں

تلخی کش نومیدئ دیدار بہت ہیں اس نرگس بیمار کے بیمار بہت ہیں عالم پہ ہے چھایا ہوا اک یاس کا عالم یعنی کہ تمنا کے گرفتار بہت ہیں اک وصل کی تدبیر ہے اک ہجر میں جینا جو کام کہ کرنے ہیں وہ دشوار بہت ہیں وہ تیرا خریدار قدیم آج کہاں ہے یہ سچ ہے کہ اب تیرے خریدار بہت ہیں محنت ہو مصیبت ...

مزید پڑھیے

آپ اپنا روئے زیبا دیکھیے

آپ اپنا روئے زیبا دیکھیے یا مجھے محو تماشا دیکھیے شوق کو ہنگامہ آرا دیکھیے کاروبار حسرت افزا دیکھیے رنگ گلزار تمنا دیکھیے دل کشی ہائے تماشا دیکھیے حسن ہے سو رنگ میں تحسیں طلب دیدۂ حیراں سے کیا کیا دیکھیے بزم میں اس بے مروت کی مجھے دیکھنا پڑتا ہے کیا کیا دیکھیے حسرت آنکھوں ...

مزید پڑھیے

نہیں کہ عشق نہیں ہے گل و سمن سے مجھے

نہیں کہ عشق نہیں ہے گل و سمن سے مجھے دل فسردہ لیے جاتا ہے چمن سے مجھے مثال شمع ہے رونا بھی اور جلنا بھی یہی تو فائدہ ہے تیری انجمن سے مجھے بڑھی ہے یاس سے کچھ ایسی وحشت خاطر نکال کر ہی رہے گی یہ اب وطن سے مجھے عزیز اگر نہیں رکھتا نہ رکھ ذلیل ہی رکھ مگر نکال نہ تو اپنی انجمن سے ...

مزید پڑھیے

شوق دیتا ہے مجھے پیغام عشق

شوق دیتا ہے مجھے پیغام عشق ہاتھ میں لبریز لے کر جام عشق آپ ہوں ذوق اسیری سے خراب کوئی لے جائے مجھے تا دام عشق اشتیاق سجدہ سے بیتاب ہوں اے حریم کعبۂ اسلام عشق قیس و وامق سے کہاں اب اہل دل تھا انہیں لوگوں سے روشن نام عشق نعش پر فرہاد کے شیریں گئی وہ ستم پروردۂ آلام عشق اور یوں ...

مزید پڑھیے

جو تجھ سے شور تبسم ذرا کمی ہوگی

جو تجھ سے شور تبسم ذرا کمی ہوگی ہمارے زخم جگر کی بڑی ہنسی ہوگی رہا نہ ہوگا مرا شوق قتل بے تحسیں زبان خنجر قاتل نے داد دی ہوگی تری نگاہ تجسس بھی پا نہیں سکتی اس آرزو کو جو دل میں کہیں چھپی ہوگی مرے تو دل میں وہی شوق ہے جو پہلے تھا کچھ آپ ہی کی طبیعت بدل گئی ہوگی بجھی دکھائی تو ...

مزید پڑھیے
صفحہ 326 سے 4657