شاعری

افق تک میرا صحرا کھل رہا ہے

افق تک میرا صحرا کھل رہا ہے کہیں دریا سے دریا مل رہا ہے لباس ابر نے بھی رنگ بدلا زمیں کا پیرہن بھی سل رہا ہے اسی تخلیق کی آسودگی میں بہت بے چین میرا دل رہا ہے کسی کے نرم لہجے کا قرینہ مری آواز میں شامل رہا ہے میں اب اس حرف سے کترا رہی ہوں جو میری بات کا حاصل رہا ہے کسی کے دل کی ...

مزید پڑھیے

راہزن ہوں کہ رہنما ہوں میں

راہزن ہوں کہ رہنما ہوں میں کون جانے کہ اصل کیا ہوں میں وہ جو عبرت کا اک نشاں ٹھہرے باغ والوں کو جانتا ہوں میں مجھ سے خلق خدا لرزتی ہے کس نوعیت کا پارسا ہوں میں سادگی کو بھی جس پہ رشک آئے اس تکلف کی انتہا ہوں میں کس نے دیکھا یہ دیکھنا میرا دل کی آنکھوں سے دیکھتا ہوں میں بھیڑیے ...

مزید پڑھیے

کس قدر خوش تھا کبھی یاروں کے بیچ

کس قدر خوش تھا کبھی یاروں کے بیچ اب ترستا ہوں میں خرکاروں کے بیچ کچھ خبر بھی ہے مری کٹیا تجھے گھر گئی ہے کتنے زرداروں کے بیچ دیکھ کر دشمن مرا رونے لگا کھلکھلایا میں جو انگاروں کے بیچ کیا کرے گا سر پکڑنے کے سوا اک مسیحا اتنے بیماروں کے بیچ جانے کیوں دیوار ٹیڑھی ہو گئی اور وہ ...

مزید پڑھیے

ویسے تو بے شمار ہیں قامت کشیدہ لوگ

ویسے تو بے شمار ہیں قامت کشیدہ لوگ گنتی ہوئی تو رہ گئے بس چیدہ چیدہ لوگ دستار کے حصول کا کوئی تو ہو جواز کس زعم میں ہیں مبتلا یہ سر بریدہ لوگ اے کاش اپنی موت ہی مرتے تو تھا مزا جاں سے گزر گئے ہیں جو مردم گزیدہ لوگ کوئی تو پشتی بان ہے ان کا یہیں کہیں کب بیٹھتے ہیں چین سے دامن ...

مزید پڑھیے

کیوں تیرگی پہ تم کو گماں چاندنی کا ہے

کیوں تیرگی پہ تم کو گماں چاندنی کا ہے آخر یہ رنگ روپ کہاں چاندنی کا ہے ظلمت کا اشتہار بنے پھر رہے ہیں ہم سوچو اگر تو یہ بھی زیاں چاندنی کا ہے یہ روشنی کا شہر ہے کیسا کہ اب یہاں دیکھا جسے بھی نوحہ کناں چاندنی کا ہے اس شہر بے چراغ سے آؤ نکل چلیں وہ اس لئے کہ شور یہاں چاندنی کا ...

مزید پڑھیے

سمجھے ہیں مثل کاہ مجھے مارتے ہیں لوگ

سمجھے ہیں مثل کاہ مجھے مارتے ہیں لوگ کتنے ہیں کم نگاہ مجھے مارتے ہیں لوگ اتنا بھی احتجاج گوارا نہیں انہیں بھرتا ہوں جب بھی آہ مجھے مارتے ہیں لوگ مانا کہ تیرے عدل کا ڈنکا ہے چار سو لیکن اے کج کلاہ مجھے مارتے ہیں لوگ طے ہے کہ پھر گرا دیا جاوں گا چاہ میں پہلے برون چاہ مجھے مارتے ...

مزید پڑھیے

اس طرح مرجھا گئے کچھ پھول چہرے رات کو

اس طرح مرجھا گئے کچھ پھول چہرے رات کو دھوپ آنگن میں اتر آئی ہو جیسے رات کو عمر بھر سورج بھی جن کی دید سے قاصر رہے ان حیا داروں کے اٹھتے ہیں جنازے رات کو زیست کا سرمایہ ہے یادیں انہی لمحات کی ماؤں سے جب لوریاں سنتے تھے بچے رات کو بن گئے ہیں رہزنوں کے واسطے جائے اماں اور مسافر کے ...

مزید پڑھیے

یہ نظارہ نہ دیکھا تھا فراز بام سے پہلے

یہ نظارہ نہ دیکھا تھا فراز بام سے پہلے نکلتا ہے کوئی سورج غروب شام سے پہلے اسی کے نام کر ڈالے ہیں میں نے رت جگے اپنے کسی کا نام لیتا ہے جو میرے نام سے پہلے تمہارے آتشیں لہجے سے ہم خائف نہیں لیکن ہماری بات تو سن لو ذرا آرام سے پہلے سکوت شہر خاموشاں بھی جس پر رشک فرمائے کچھ ایسی ...

مزید پڑھیے

میں ترا ہی آئنہ ہوں اور بس

میں ترا ہی آئنہ ہوں اور بس تجھ کو دیکھا چاہتا ہوں اور بس کیوں سمجھتے ہو مجھے منزل نما ٹیڑھا‌ میڑھا راستا ہوں اور بس ہے ابھی محدود میری آگہی میں تو اتنا جانتا ہوں اور بس کوئی تو کھولے مری پیچیدگی میں کسی کا زائچہ ہوں اور بس اب کسی ترمیم کا مت سوچنا میں مکمل فیصلہ ہوں اور ...

مزید پڑھیے

ہوا کی چال چل جائے گا تو بھی

ہوا کی چال چل جائے گا تو بھی خبر کیا تھی بدل جائے گا تو بھی کہاں ٹھہری ہے خواہش کوئی دل میں مرے دل سے نکل جائے گا تو بھی مخاطب ہوں جمال یار تجھ سے مثال ماہ ڈھل جائے گا تو بھی بس اپنے تجربے کی روشنی میں میں سمجھا تھا سنبھل جائے گا تو بھی ہنسے تو لاکھ میری طفلگی پر کھلونوں سے بہل ...

مزید پڑھیے
صفحہ 248 سے 4657