شاعری

مجھے آگہی کا نشاں سمجھ کے مٹاؤ مت

مجھے آگہی کا نشاں سمجھ کے مٹاؤ مت یہ چراغ جلنے لگا ہے اس کو بجھاؤ مت مجھے جاگنا ہے تمام عمر اسی طرح مجھے صبح و شام کے سلسلے میں ملاؤ مت مجھے علم ہے مرے خال و خد میں کمی ہے کیا مجھے آئنے کا طلسم کوئی دکھاؤ مت میں خلوص دل کی بلندیوں کے سفر پہ ہوں مجھے داستان فریب کوئی سناؤ مت مجھے ...

مزید پڑھیے

راستے کی سمت اکثر دیکھتے رہتے ہیں کیوں

راستے کی سمت اکثر دیکھتے رہتے ہیں کیوں خاک اپنے فیصلوں کی چھانتے رہتے ہیں کیوں کیوں جلا رکھتے ہیں ہم اپنے تجسس کا دیا جس کو پا لیتے ہیں اس کو ڈھونڈتے رہتے ہیں کیوں ہم مہک کے استعارے کو بدلتے کیوں نہیں تحفۂ خوشبو گلوں سے مانگتے رہتے ہیں کیوں تجربہ ہم توڑنے کا کیوں اسے کرتے ...

مزید پڑھیے

رسائی کا قرینہ آنکھ میں ہے

رسائی کا قرینہ آنکھ میں ہے زہے قسمت مدینہ آنکھ میں ہے میں تیرے شہر کی جانب رواں ہوں سر دریا سفینہ آنکھ میں ہے ترے دست رسا میں باب رحمت شفاعت کا خزینہ آنکھ میں ہے نہ چٹخے دیکھنا یہ تشنگی سے طلب کا آبگینہ آنکھ میں ہے جلا دے اس کو اپنی روشنی سے دعاؤں کا نگینہ آنکھ میں ہے

مزید پڑھیے

سبک ہوتی ہوا سے تیز چلنا چاہتی ہوں

سبک ہوتی ہوا سے تیز چلنا چاہتی ہوں میں اک جلتے دیے کے ساتھ جلنا چاہتی ہوں غبار بے یقینی نے مجھے روکا ہوا ہے زمیں سے پھوٹ کر باہر نکلنا چاہتی ہوں میں خود سہمی ہوئی ہوں آئنے کے ٹوٹنے سے بہت آہستہ سطح دل پہ چلنا چاہتی ہوں نمود صبح سے پہلے کا لمحہ دیکھنے کو اندھیری رات کے پیکر میں ...

مزید پڑھیے

اک بے پناہ رات کا تنہا جواب تھا

اک بے پناہ رات کا تنہا جواب تھا چھوٹا سا اک دیا جو سر احتساب تھا رستہ مرا تضاد کی تصویر ہو گیا دریا بھی بہہ رہا تھا جہاں پر سراب تھا وہ وقت بھی عجیب تھا حیران کر گیا واضح تھا زندگی کی طرح اور خواب تھا پہلے پڑاؤ سے ہی اسے لوٹنا پڑا لمبی مسافتوں سے جسے اجتناب تھا پھر بے نمو زمین ...

مزید پڑھیے

دولت درد سمیٹو کہ بکھرنے کو ہے

دولت درد سمیٹو کہ بکھرنے کو ہے رات کا آخری لمحہ بھی گزرنے کو ہے خشت در خشت عقیدت نے بنایا جس کو ابر آزار اسی گھر پہ ٹھہرنے کو ہے کشت برباد سے تجدید وفا کر دیکھو اب تو دریاؤں کا پانی بھی اترنے کو ہے اپنی آنکھوں میں وہی عکس لیے پھرتے ہیں جیسے آئینۂ مقسوم سنورنے کو ہے جو ڈبوئے گی ...

مزید پڑھیے

پردہ آنکھوں سے ہٹانے میں بہت دیر لگی

پردہ آنکھوں سے ہٹانے میں بہت دیر لگی ہمیں دنیا نظر آنے میں بہت دیر لگی نظر آتا ہے جو ویسا نہیں ہوتا کوئی شخص خود کو یہ بات بتانے میں بہت دیر لگی ایک دیوار اٹھائی تھی بڑی عجلت میں وہی دیوار گرانے میں بہت دیر لگی آگ ہی آگ تھی اور لوگ بہت چاروں طرف اپنا تو دھیان ہی آنے میں بہت دیر ...

مزید پڑھیے

ایک اک حرف سمیٹو مجھے تحریر کرو

ایک اک حرف سمیٹو مجھے تحریر کرو مری یکسوئی کو آمدۂ زنجیر کرو سب خد و خال مرے دھند ہوئے جاتے ہیں صبح کے رنگ سے آؤ مجھے تصویر کرو جیتنا میرے لیے کرب ہوا جاتا ہے مرے پندار کو توڑو مجھے تسخیر کرو اس عمارت کو گرا دو جو نظر آتی ہے مرے اندر جو کھنڈر ہے اسے تعمیر کرو اب مری آنکھ سے لے ...

مزید پڑھیے

عطائے ابر سے انکار کرنا چاہیئے تھا

عطائے ابر سے انکار کرنا چاہیئے تھا میں صحرا تھی مجھے اقرار کرنا چاہیئے تھا لہو کی آنچ دینی چاہیئے تھی فیصلے کو اسے پھر نقش بر دیوار کرنا چاہیئے تھا اگر لفظ و بیاں ساکت کھڑے تھے دوسری سمت ہمیں کو رنج کا اظہار کرنا چاہیئے تھا اگر اتنی مقدم تھی ضرورت روشنی کی تو پھر سائے سے اپنے ...

مزید پڑھیے

سانحہ قسمتوں کے دریچوں میں لپکے گا چھپ جائے گا بات ٹل جائے گی

سانحہ قسمتوں کے دریچوں میں لپکے گا چھپ جائے گا بات ٹل جائے گی سب مسافر گھروں کو پلٹ جائیں گے غم کی وحشت خوشی میں بدل جائے گی ہم ستاروں کی مانند ٹوٹیں گے اور آسماں پر لکیریں بنا جائیں گے موت کا رقص کرتی ہوئی ایک ساعت رکے گی کہیں پھر سنبھل جائے گی سارے بکھرے ہوئے لفظ کوئی اٹھا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 247 سے 4657