دل کے لٹنے پہ کیا کرے کوئی
دل کے لٹنے پہ کیا کرے کوئی کس سے جا کر پتہ کرے کوئی سوچتا ہوں کہ کس بھروسے پر جان تم پر فدا کرے کوئی یعنی عمر خضر تو حاصل ہو چند سانسوں کا کیا کرے کوئی ایک ہی تو صدائے مجنوں ہے میرے دکھ کی دوا کرے کوئی اس پہ لازم اسی کا ہو جانا جس کو کچھ بھی عطا کرے کوئی کوئی رستہ نکل ہی آتا ...