مجھے اس شہر کی آب و ہوا اچھی نہیں لگتی
مجھے اس شہر کی آب و ہوا اچھی نہیں لگتی مسلسل خود فریبی کی قبا اچھی نہیں لگتی الٰہی یہ مرض کیسا لگا مجھ کو نہ جانے کیوں دعا اچھی نہیں لگتی دوا اچھی نہیں لگتی خوشی کی بھی خبر سے اب تو دلچسپی نہیں مجھ کو کہ اب اے زندگی تجھ سے وفا اچھی نہیں لگتی جہاں کے سامنے ہم کو نہ تم پہچان پاتے ...