شاعری

مجھے اس شہر کی آب و ہوا اچھی نہیں لگتی

مجھے اس شہر کی آب و ہوا اچھی نہیں لگتی مسلسل خود فریبی کی قبا اچھی نہیں لگتی الٰہی یہ مرض کیسا لگا مجھ کو نہ جانے کیوں دعا اچھی نہیں لگتی دوا اچھی نہیں لگتی خوشی کی بھی خبر سے اب تو دلچسپی نہیں مجھ کو کہ اب اے زندگی تجھ سے وفا اچھی نہیں لگتی جہاں کے سامنے ہم کو نہ تم پہچان پاتے ...

مزید پڑھیے

اتنی اونچائی سے دھرتی کی خبر کیا جانے

اتنی اونچائی سے دھرتی کی خبر کیا جانے اس کو مٹی نے ہی پالا ہے شجر کیا جانے دفن ہوتے نہ حسیں خواب ادھورے لیکن اپنے مرنے کی گھڑی کوئی بشر کیا جانے جس مسافر کا پتا پوچھ رہے ہو اس کی عمر گزری ہے مسافت میں وہ گھر کیا جانے اس نے نفرت کے سوا اور کبھی کچھ نہ کیا پھر وہ بد ذات محبت کا اثر ...

مزید پڑھیے

پلٹ کر نہ دیکھیں گے تم کو دوبارہ

پلٹ کر نہ دیکھیں گے تم کو دوبارہ چلو اب یہ وعدہ ہے تم سے ہمارا میں وہ تو نہیں ہوں جو ہوتا رہا ہوں مگر اب نہ ہوگا وہ ہونا گوارا کہیں فائدہ تو نظر ہی نہ آئے جہاں دیکھیے بس خسارہ خسارہ جو مٹی میں ملنا ہے سب کو یہیں کی تو کرتے بھی کیوں ہو ہمارا تمہارا ہمیں صاف لفظوں میں کھل کر ...

مزید پڑھیے

شکایت کریں کیا شکایت سے کیا ہو

شکایت کریں کیا شکایت سے کیا ہو اگر جنگ لازم ہے تو حوصلہ ہو بشر کا تو اتنا نہ دل صاف ہوگا تم انساں کی صورت میں جیسے خدا ہو یہ سرکش سمندر نکل پاؤ گے جب جنوں سانس لینے کا سر پر چڑھا ہو محبت میں ہو تو بس اتنا کہوں گا مزہ چار دن کا ہے لمبی سزا ہو کوئی ہر مصیبت سے ہم کو نکالے اثر کر رہی ...

مزید پڑھیے

شام سجا کے کیا کریں یاد کا اہتمام بھی

شام سجا کے کیا کریں یاد کا اہتمام بھی بھول گئے ہیں اب تو ہم اس کا بھلا سا نام بھی راہ میں روک کر اسے آپ ہیں شرمسار ہم یاد ہی آ نہیں رہا اس سے تھا کوئی کام بھی طاق مژہ پہ ضو فشاں مثل چراغ و کہکشاں اس کی گلی کی صبح بھی اس کی گلی کی شام بھی وقت نماز عشق تھا کوئی نہ پیش و پشت جب خود ہی ...

مزید پڑھیے

ہے عجب دھند جدھر آنکھ اٹھا کر دیکھوں

ہے عجب دھند جدھر آنکھ اٹھا کر دیکھوں ریگ ساحل سے نمٹ لوں تو سمندر دیکھوں میرے ہم سایے میں خالی ہے کرائے کا مکان آ کے بس جاؤ کہ میں تم کو برابر دیکھوں جانے کون آ کے پلٹ جاتا ہے دروازے سے ایک سایہ سا میں دہلیز پر اکثر دیکھوں ایسا الجھایا گیا مجھ کو فلک سازی میں اتنی مہلت ہی ...

مزید پڑھیے

اکیلا ہوں مگر آباد ہوں میں

اکیلا ہوں مگر آباد ہوں میں قفس میں ہی سہی آزاد ہوں میں مجھے دل میں لیے وہ گھومتا ہے کہ اس کی ان کہی فریاد ہوں میں یہ دنیا مقتلوں سے کم کہاں ہے سبھی کے قتل سے ناشاد ہوں میں مرے سینے پہ کس کے نقش پا ہیں یہ کس کی ذات سے برباد ہوں میں زمانہ شوق سے سنتا ہے مجھ کو زمانے سے جڑی روداد ...

مزید پڑھیے

مرض لگتا ہے جو مجھ کو اسے میری دوا سمجھے

مرض لگتا ہے جو مجھ کو اسے میری دوا سمجھے دوانہ ہو گیا ہوں میں دوانوں کو وہ کیا سمجھے میں اپنے آپ میں خوش ہوں مجھے اس سے غرض کیا ہے کہ یہ مجھ کو بھلا سمجھے کہ وہ مجھ کو برا سمجھے بچھڑنے کا وہ ہم سے نام تک لینے سے گھبرائے جسے ہم ہجر کہتے ہیں اسے وہ بد دعا سمجھے گناہوں سے بچا جائے ...

مزید پڑھیے

تیغ شمشیر یا خنجر کی ضرورت کیا ہے

تیغ شمشیر یا خنجر کی ضرورت کیا ہے جنگ جب خود سے ہو لشکر کی ضرورت کیا ہے جس نے سمجھا مجھے باہر سے ہی سمجھا صاحب کس کو معلوم کہ اندر کی ضرورت کیا ہے گر ترا قرب میسر ہو تو اے جان ادا سرد راتوں میں بھی بستر کی ضرورت کیا ہے بے وفائی کا تری زخم کوئی کم تو نہیں چوٹ دینی ہو تو پتھر کی ...

مزید پڑھیے

سبھی دل شاد منظر چھوڑ آیا

سبھی دل شاد منظر چھوڑ آیا سفر میں ہوں میں گھر ور چھوڑ آیا تعلق تشنگی سے ہے پرانا یہ سوچا اور سمندر چھوڑ آیا مری قربانیاں کیا پوچھتے ہو پرندہ ہوں اور امبر چھوڑ آیا بھٹکنے کا تھا ایسا شوق مجھ کو کہ میں دامان رہبر چھوڑ آیا جہاں سے زندگی کی ابتدا کی اسی جا موت کا ڈر چھوڑ آیا مرمت ...

مزید پڑھیے
صفحہ 162 سے 4657