شاعری

میں چھو سکوں تجھے میرا خیال خام ہے کیا

میں چھو سکوں تجھے میرا خیال خام ہے کیا ترا بدن کوئی شمشیر بے نیام ہے کیا مری جگہ کوئی آئینہ رکھ لیا ہوتا نہ جانے تیرے تماشے میں میرا کام ہے کیا اسیر خاک مجھے کر کے تو نہال سہی نگاہ ڈال کے تو دیکھ زیر دام ہے کیا یہ ڈوبتی ہوئی کیا شے ہے تیری آنکھوں میں ترے لبوں پہ جو روشن ہے اس کا ...

مزید پڑھیے

صحن چمن میں جانا میرا اور فضا میں بکھر جانا

صحن چمن میں جانا میرا اور فضا میں بکھر جانا شاخ گل کے ساتھ لچکنا صبا کے ساتھ گزر جانا سحر بھری دو آنکھیں میرا پیچھا کرتی رہتی ہیں ناگن کا وہ مڑ کر دیکھنا پھر وادی میں اتر جانا زخم ہی تیرا مقدر ہیں دل تجھ کو کون سنبھالے گا اے میرے بچپن کے ساتھی میرے ساتھ ہی مر جانا سورج کی ان ...

مزید پڑھیے

عکس فلک پر آئینہ ہے روشن آب ذخیروں کا

عکس فلک پر آئینہ ہے روشن آب ذخیروں کا گرم سفر ہے قاز قافلہ سیل رواں ہے تیروں کا کٹے ہوئے کھیتوں کی منڈیروں پر ابرک کی زنگاری تھکی ہوئی مٹی کے سہارے ڈھیر لگا ہے ہیروں کا تیز قلم کرنوں نے بنائے ہیں کیا کیا حیرت پیکر جھیل کے ٹھہرے ہوئے پانی پر نقش اترا تصویروں کا کیا کچھ دل کی ...

مزید پڑھیے

کیسے دل کا کہا بتائیں ہم

کیسے دل کا کہا بتائیں ہم راز کی بات کیا بتائیں ہم تم نے پوچھا بھی تو نہیں ہم سے جو تمہیں مسئلہ بتائیں ہم آج انسان سوچتا ہے یہ کیسے خود کو خدا بتائیں ہم غلطیاں ہم نے بھی بہت کی ہیں کس کو کس کی خطا بتائیں ہم ہم نے بھی کون سی وفا کی ہے کیوں اسے بے وفا بتائیں ہم خون کا یا محبتوں والا کس ...

مزید پڑھیے

اس نئے گھر میں بھی ہر چیز پرانی کیوں ہے

اس نئے گھر میں بھی ہر چیز پرانی کیوں ہے گر یہ صورت ہے تو پھر نقل مکانی کیوں ہے کوئی خوبی بھی نہیں نقص بھی لاکھوں مجھ میں تو مرے عشق میں اس درجہ دوانی کیوں ہے ہجر کی بات کرو مجھ سے کبھی خلوت میں پھر یہ سوچو کہ مری آنکھ میں پانی کیوں ہے لکھنؤ شہر مرا شہد سا لہجہ سمجھوں آپ کے شہر ...

مزید پڑھیے

پھول کچلے جا رہے تھے باغباں چیخا کیا

پھول کچلے جا رہے تھے باغباں چیخا کیا یہ زمیں روتی رہی وہ آسماں چیخا کیا جو مکاں والے تھے سارے بے خبر سوتے رہے رات بھر سڑکوں پہ کوئی بے مکاں چیخا کیا جتنے زندہ لوگ تھے سب لاش بن کر رہ گئے جب مدد کے واسطے اک نیم جاں چیخا کیا جانتے تھے ہم بھٹک کر ہی ملیں گی منزلیں اپنے ہی رستے چلے ...

مزید پڑھیے

مجھے ہزار مرتبہ پکار کر چلا گیا

مجھے ہزار مرتبہ پکار کر چلا گیا وہ ساری عمر میرا انتظار کر چلا گیا اجڑ رہا تھا ٹھیک سے اجڑنے بھی نہیں دیا وہ جانے والا کیوں مجھے سنوار کر چلا گیا یہ کیا خیال آ گیا سفر سے قبل ذہن میں جو ہر طرف غبار ہی غبار کر چلا گیا مرا پھر آنسوؤں پہ اختیار ہی نہیں رہا مری نگاہ کو وہ آبشار کر ...

مزید پڑھیے

نیند راتوں کی مرے یار اڑاتی ہے غزل

نیند راتوں کی مرے یار اڑاتی ہے غزل صبح تک ایک غزل گو کو جگاتی ہے غزل لوگ کہتے ہیں غزل کہنا کوئی کام نہیں کیا خبر ان کو کہ کس کام میں آتی ہے غزل رات جب پاس مرے کوئی نہیں ہوتا ہے مجھ کو سینے سے لگا کر کے سلاتی ہے غزل ایک مصرعہ کہ کوئی شعر عطا کر کے مجھے اپنے چکر میں کئی روز گھماتی ...

مزید پڑھیے

بے لوث و روادار تمہاری ہی طرح ہو

بے لوث و روادار تمہاری ہی طرح ہو دشمن بھی مرے یار تمہاری ہی طرح ہو میں ہاتھ سے پھر زہر بھی کھا لوں گا تمہارے گر وہ بھی اثر دار تمہاری ہی طرح ہو جاں ہنس کے لٹا دوں گا مگر مجھ میں جو اترے خواہش ہے وہ تلوار تمہاری ہی طرح ہو لو پھول مری قبر کی خاطر تو رہے دھیان ہر پھول کی مہکار ...

مزید پڑھیے

خشک پلکوں کو ترے در پہ بھگونے آیا

خشک پلکوں کو ترے در پہ بھگونے آیا ایک مدت سے جو رویا نہ تھا رونے آیا جانتا ہوں کہ نکلنا ہے یہاں سے مشکل آج آنکھوں میں تری خود کو میں کھونے آیا جس کے پاپوں کے لیے لاکھ سمندر کم ہیں ایک دریا میں گناہوں کو وہ دھونے آیا زندگی میں جو سکوں سے نہ کبھی سوتا تھا اوڑھ کر آج کفن قبر میں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 161 سے 4657