شاعری

ہم بے گھروں کے دل میں جگاتی ہے ڈر گلی

ہم بے گھروں کے دل میں جگاتی ہے ڈر گلی سوتی ہے آدھی رات کو جب بے خبر گلی مجھ کو تو جان بوجھ کے بھٹکا دیا گیا سرکار کا مکان کہاں اور کدھر گلی کچھ سال قبل میرے بھی حصے میں آئی تھی اک دل نشین شام اور اک منتظر گلی چل تو پڑا ہوں شوق مکاں میں ترے مگر آگے سے بند یہ بھی ملے گی اگر گلی سینے ...

مزید پڑھیے

کچھ دیر میری خاک اڑی ہے مری جگہ

کچھ دیر میری خاک اڑی ہے مری جگہ صحرا میں اس کے بعد تہی ہے مری جگہ میں لے رہا ہوں دشت سے چھٹی سو میرے بعد تخت جنوں پہ بیٹھے کوئی ہے مری جگہ میں تو ادھر کھڑا ہوں ادھر چیختا ہے کون یہ کس کو آگ لگنے لگی ہے مری جگہ میرا ہنر ہے یہ تری دریا دلی نہیں اب تک جو تیرے دل میں بنی ہے مری ...

مزید پڑھیے

رات کی خاموشی کا ماتھا ٹھنکا تھا

رات کی خاموشی کا ماتھا ٹھنکا تھا جانے کس کے ہاتھ کا کنگن کھنکا تھا جھیل نے اپنے سینے پر یوں ٹانک لیا جیسے میں آوارہ چاند گگن کا تھا اس کا لان بہاروں سے آباد رہا سوکھ گیا جو پیڑ مرے آنگن کا تھا تیرے قرب کی خوش بو سے مغلوب ہوا دل میں جو آسیب اکیلے پن کا تھا دل سے در و دیوار کی ...

مزید پڑھیے

کہاں بشارت فصل بہار لائی تھی

کہاں بشارت فصل بہار لائی تھی ہوا تو باغ کی عزت اتار لائی تھی گلوں پہ اڑتی ہوئی تتلیوں سے یاد آیا تری طلب مجھے دریا کے پار لائی تھی صدا نہ پھر مرے بے جان جسم سے نکلی ہوا تو اس کو گپھا تک پکار لائی تھی تمہارے سائے سے ارمان سب نکالے گئے وصال رت ثمر انتظار لائی تھی وہ کوئی خاص چمک ...

مزید پڑھیے

سر اٹھایا مذہبی دیوار پر پٹکا ہوا

سر اٹھایا مذہبی دیوار پر پٹکا ہوا راہ پر آنے لگا دل راہ سے بھٹکا ہوا رس کشی کی دعوتیں دیتے رہے تازہ گلاب جھاڑیوں میں تھا مگر تتلی کا پر اٹکا ہوا تذکرہ ہونے لگا جب آستیں کے سانپ کا پاس ہی احساس مجھ کو سرسراہٹ کا ہوا تشنۂ دیدار میں ہی تو نہیں ہوں ان دنوں اس کے گھر کے آئنے کا بھی ...

مزید پڑھیے

کیسی زمیں سکون کہاں کا کہاں کی چھاؤں

کیسی زمیں سکون کہاں کا کہاں کی چھاؤں مجھ کو نگل گئی مرے نخل اماں کی چھانو چھا جائے گی یقین کی ارض بسیط پر ذہنوں میں پھیلتے ہوئے دود گماں کی چھاؤں گہرائیوں نے مجھ کو ابھرنے نہیں دیا رقصاں تھی سطح آب پہ اک بادباں کی چھاؤں سورج کی مملکت میں غنیمت سمجھ اسے سر سے گزر گئی ترے ابر ...

مزید پڑھیے

پھول کا کھلنا بہت دشوار ہے

پھول کا کھلنا بہت دشوار ہے موسم گل آج کل بیمار ہے بے وسیلہ بات بن سکتی نہیں مل گئی کشتی تو دریا پار ہے آنسوؤں کا اور مطلب کچھ نہیں مختصر سی صورت اظہار ہے دوستی کا راز افشا کر گئی دشمنی بھی اک بڑا کردار ہے ہم سفینے کے لئے اک بوجھ ہیں ہم اگر ڈوبے تو بیڑا پار ہے زندگی کی رزم ...

مزید پڑھیے

بس تری حد سے تجھے آگے رسائی نہیں دی

بس تری حد سے تجھے آگے رسائی نہیں دی میں نے گالی تو کوئی اے مرے بھائی نہیں دی مجھے ہر فکر سے آزاد سمجھنے والے میرے ماتھے کی شکن تجھ کو دکھائی نہیں دی دل میں اک شور اٹھا ہاتھ چھڑانے سے ترے دیر تک پھر کوئی آواز سنائی نہیں دی پھول کاڑھے ہیں مرے تلووں پہ وحشت نے مری تپتے صحرا نے مجھے ...

مزید پڑھیے

قد سے کچھ ماورا چراغ جلے

قد سے کچھ ماورا چراغ جلے پلکیں اٹھیں وہ یا چراغ جلے تیرگی ختم ہو نہیں رہی دوست دوسرا تیسرا چراغ جلے جل اٹھا ہوں میں ہے اندھیرا کہاں کہہ رہا تھا بڑا چراغ جلے یوں بجھا ہے کہ دل یہ چاہتا ہے اور اک مرتبہ چراغ جلے گھپ اندھیرے میں آنکھیں روشن ہیں اب یہاں اور کیا چراغ جلے سب نے بیعت ...

مزید پڑھیے

رغبت ہے جن کو وصل کی تیرے وجود سے

رغبت ہے جن کو وصل کی تیرے وجود سے تحلیل ہو رہے ہیں فضاؤں میں دود سے مرکز بنا ہوں دیدۂ ارباب غیب کا لایا گیا ہے مجھ کو جہان شہود سے کافر بتا کے قتل انہیں کر دیا گیا مرعوب ہو سکے جو نہ داغ سجود سے کمرے میں آ کے بیٹھا ہوں اپنے بجھا بجھا جل جل کے تیری محفل رقص و سرود سے اک ایک نقش ...

مزید پڑھیے
صفحہ 163 سے 4657