شاعری

دن تری یاد میں ڈھل جاتا ہے آنسو کی طرح

دن تری یاد میں ڈھل جاتا ہے آنسو کی طرح رات تڑپاتی ہے اک نشتر پہلو کی طرح جانے کس سوچ میں ڈوبا ہوا تنہا تنہا دل کا عالم ہے کسی سرو لب جو کی طرح ہائے وحشت کوئی منزل ہو ٹھہرتا ہی نہیں وقت ہے دام سے چھوٹے ہوئے آہو کی طرح رہ گئی گھٹ کے مرے دل میں تمنا تیری ایک پرواز شکستہ پر و بازو کی ...

مزید پڑھیے

موج ریگ سراب صحرا کیسے بنتی ہے

موج ریگ سراب صحرا کیسے بنتی ہے بہتا ہوا آئینۂ دریا کیسے بنتی ہے کھل کے کلی چپ کیوں رہتی ہے شاخ زر افشاں پر پھر یہ چہکتی کوکتی چڑیا کیسے بنتی ہے باہر کے منظر بھی حسیں کیوں لگنے لگتے ہیں دل کی لہر اک کیف سراپا کیسے بنتی ہے آنسو سے کتنا گہرا ہے مٹی کا رشتہ دنیا پھر غم سے بیگانہ ...

مزید پڑھیے

ہے بہت طاق وہ بیداد میں ڈر ہے یہ بھی

ہے بہت طاق وہ بیداد میں ڈر ہے یہ بھی جاں سلامت نہ بچا لاؤں خطر ہے یہ بھی دل کی لو پھر اسی ٹھہراؤ پہ آ جائے گی اک ذرا دیر ہواؤں کا اثر ہے یہ بھی جوئے پایاب محبت میں جواہر مت ڈھونڈھ کسی پتھر کو سمجھ لے کہ گہر ہے یہ بھی جستجو گوہر معنی کی زیاں وقت کا ہے کیا پرکھتا ہے انہیں صرف نظر ہے ...

مزید پڑھیے

پہلے مجھ کو بھی خیال یار کا دھوکا ہوا

پہلے مجھ کو بھی خیال یار کا دھوکا ہوا دل مگر کچھ اور ہی عالم میں تھا کھویا ہوا دل کی صورت گھٹ رہی ہے ڈوبتے سورج کی لو اٹھ رہا ہے کچھ دھواں سا دور بل کھاتا ہوا میں نے بیتابانہ بڑھ کر دشت میں آواز دی جب غبار اٹھا کسی دیوانے کا دھوکا ہوا نیند اچٹ جائے گی ان متوالی آنکھوں کی نہ ...

مزید پڑھیے

لگاؤں ہاتھ تجھے یہ خیال خام ہے کیا

لگاؤں ہاتھ تجھے یہ خیال خام ہے کیا ترا بدن کوئی شمشیر بے نیام ہے کیا مری جگہ کوئی آئینہ رکھ لیا ہوتا نہ جانے تیرے تماشے میں میرا کام ہے کیا اسیر خاک مجھے کر کے تو نہال سہی نگاہ ڈال کے تو دیکھ زیر دام ہے کیا یہ ڈوبتی ہوئی کیا شے ہے تیری آنکھوں میں ترے لبوں پہ جو روشن ہے اس کا نام ...

مزید پڑھیے

وہ اور محبت سے مجھے دیکھ رہا ہو

وہ اور محبت سے مجھے دیکھ رہا ہو کیا دل کا بھروسا مجھے دھوکا ہی ہوا ہو ہوگا کوئی اس دل سا بھی دیوانہ کہ جس نے خود آگ لگائی ہو بجھانے بھی چلا ہو اک نیند کا جھونکا شب غم آ تو گیا تھا اب وہ ترے دامن کی ہوا ہو کہ صبا ہو دل ہے کہ تری یاد سے خالی نہیں رہتا شاید ہی کبھی میں نے تجھے یاد کیا ...

مزید پڑھیے

گہری رات ہے اور طوفان کا شور بہت

گہری رات ہے اور طوفان کا شور بہت گھر کے در و دیوار بھی ہیں کمزور بہت تیرے سامنے آتے ہوئے گھبراتا ہوں لب پہ ترا اقرار ہے دل میں چور بہت نقش کوئی باقی رہ جائے مشکل ہے آج لہو کی روانی میں ہے زور بہت دل کے کسی کونے میں پڑے ہوں گے اب بھی ایک کھلا آکاش پتنگیں ڈور بہت مجھ سے بچھڑ کر ...

مزید پڑھیے

سورج نے اک نظر مرے زخموں پہ ڈال کے

سورج نے اک نظر مرے زخموں پہ ڈال کے دیکھا ہے مجھ کو کھڑکی سے پھر سر نکال کے رکھتے ہی پاؤں گھومتی چکراتی راہ نے پھینکا ہے مجھ کو دور خلا میں اچھال کے کیا خواہشیں زمین کے نیچے دبی رہیں غاروں سے کچھ مجسمے نکلے وصال کے چھن چھن کے آ رہی ہو گپھاؤں میں روشنی تن پر وہی لباس ہوں پیڑوں کی ...

مزید پڑھیے

خنجر چمکا رات کا سینہ چاک ہوا

خنجر چمکا رات کا سینہ چاک ہوا جنگل جنگل سناٹا سفاک ہوا زخم لگا کر اس کا بھی کچھ ہاتھ کھلا میں بھی دھوکا کھا کر کچھ چالاک ہوا میری ہی پرچھائیں در و دیوار پہ ہے صبح ہوئی نیرنگ تماشا خاک ہوا کیسا دل کا چراغ کہاں کا دل کا چراغ تیز ہواؤں میں شعلہ خاشاک ہوا پھول کی پتی پتی خاک پہ ...

مزید پڑھیے

ستم گروں کا طریق جفا نہیں جاتا

ستم گروں کا طریق جفا نہیں جاتا کہ قتل کرنا ہو جس کو کہا نہیں جاتا یہ کم ہے کیا کہ مرے پاس بیٹھا رہتا ہے وہ جب تلک مرے دل کو دکھا نہیں جاتا تمہیں تو شہر کے آداب تک نہیں آتے زیادہ کچھ یہاں پوچھا گچھا نہیں جاتا بڑے عذاب میں ہوں مجھ کو جان بھی ہے عزیز ستم کو دیکھ کے چپ بھی رہا نہیں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 160 سے 4657