شاعری

دل کے تاتار میں یادوں کے اب آہو بھی نہیں

دل کے تاتار میں یادوں کے اب آہو بھی نہیں آئینہ مانگے جو ہم سے وہ پری رو بھی نہیں دشت تنہائی میں آواز کے گھنگرو بھی نہیں اور ایسا بھی کہ سناٹے کا جادو بھی نہیں زندگی جن کی رفاقت پہ بہت نازاں تھی ان سے بچھڑی تو کوئی آنکھ میں آنسو بھی نہیں چاہتے ہیں رہ مے خانہ نہ قدموں کو ملے لیکن ...

مزید پڑھیے

تمام راستہ پھولوں بھرا تمہارا تھا

تمام راستہ پھولوں بھرا تمہارا تھا ہماری راہ میں بس نقش پا ہمارا تھا اس ایک ساعت شب کا خمار یاد کریں بدن کے لمس کو جب ہم نے مل کے بانٹا تھا وہ ایک لمحہ جسے تم نے چھو کے چھوڑ دیا اس ایک لمحے میں کیف وصال سارا تھا پھر اس کے بعد نگاہوں نے کچھ نہیں دیکھا نہ جانے کون تھا جو سامنے سے ...

مزید پڑھیے

بچھڑتے دامنوں میں پھول کی کچھ پتیاں رکھ دو

بچھڑتے دامنوں میں پھول کی کچھ پتیاں رکھ دو تعلق کی گرانباری میں تھوڑی نرمیاں رکھ دو بھٹک جاتی ہیں تم سے دور چہروں کے تعاقب میں جو تم چاہو مری آنکھوں پہ اپنی انگلیاں رکھ دو برستے بادلوں سے گھر کا آنگن ڈوب تو جائے ابھی کچھ دیر کاغذ کی بنی یہ کشتیاں رکھ دو دھواں سگرٹ کا بوتل کا ...

مزید پڑھیے

قصیدے لے کے سارے شوکت دربار تک آئے

قصیدے لے کے سارے شوکت دربار تک آئے ہمیں دو چار تھے جو حلقۂ انکار تک آئے وہ تپتی دھوپ سے جب سایۂ دیوار تک آئے تو جاتی دھوپ کے منظر لب اظہار تک آئے وہ جس کو دیکھنے اک بھیڑ امڈی تھی سر مقتل اسی کی دید کو ہم بھی ستون دار تک آئے طرب زادوں کی راتیں حسن سے آباد رہتی تھیں سخن زادے تو بس ...

مزید پڑھیے

ہر قدم سیل حوادث سے بچایا ہے مجھے

ہر قدم سیل حوادث سے بچایا ہے مجھے کبھی دل میں کبھی آنکھوں میں چھپایا ہے مجھے اور سب لوگ تو مے خانہ سے گھر لوٹ گئے مہرباں رات نے سینے سے لگایا ہے مجھے ہر حسیں انجمن شب مجھے دہراتی ہے جانے کس مطرب آشفتہ نے گایا ہے مجھے سنگ سازوں نے تراشا ہے مرے پیکر کو تم نے کیا سوچ کے پتھر پہ ...

مزید پڑھیے

کئی کوٹھے چڑھے گا وہ کئی زینوں سے اترے گا

کئی کوٹھے چڑھے گا وہ کئی زینوں سے اترے گا بدن کی آگ لے کر شب گئے پھر گھر کو لوٹے گا گزرتی شب کے ہونٹوں پر کوئی بے ساختہ بوسہ پھر اس کے بعد تو سورج بڑی تیزی سے چمکے گا ہماری بستیوں پر دور تک امڈا ہوا بادل ہوا کا رخ اگر بدلا تو صحراؤں پہ برسے گا غضب کی دھار تھی اک سائباں ثابت نہ رہ ...

مزید پڑھیے

میرا سارا بدن راکھ ہو بھی چکا میں نے دل کو بچایا ہے تیرے لیے

میرا سارا بدن راکھ ہو بھی چکا میں نے دل کو بچایا ہے تیرے لیے ٹوٹے پھوٹے سے دیوار و در ہیں سبھی پھر بھی گھر کو سجایا ہے تیرے لیے کتنی محنت ہوئی خوں پسینہ ہوا جسم مٹی ہوا رنگ میلا ہوا خود تو جلتا رہا دوزخوں میں مگر گھر کو جنت بنایا ہے تیرے لیے تیری ہر بات تھی تلخیوں سے بھری تیرا ...

مزید پڑھیے

دل کا غم سے غم کا نم سے رابطہ بنتا گیا

دل کا غم سے غم کا نم سے رابطہ بنتا گیا دھیرے دھیرے بارشوں کا سلسلہ بنتا گیا درد و غم سہنے کی عادت اس قدر پختہ ہوئی ہارنا آخر ہمارا مشغلہ بنتا گیا ایک اک کر کے بہت دکھ ساتھ میرے ہو لیے مرحلہ در مرحلہ اک قافلہ بنتا گیا ضبط کا دامن جو چھوٹا ہاتھ سے میرے تو پھر میرا چہرہ کرب کا اک ...

مزید پڑھیے

لوگ کہتے ہیں یہاں ایک حسیں رہتا تھا

لوگ کہتے ہیں یہاں ایک حسیں رہتا تھا سر آئینہ کوئی ماہ جبیں رہتا تھا وہ بھی کیا دن تھے کہ بر دوش ہوا تھے ہم بھی آسمانوں پہ کوئی خاک نشیں رہتا تھا میں اسے ڈھونڈتا پھرتا تھا بیابانوں میں وہ خزانے کی طرح زیر زمیں رہتا تھا پھر بھی کیوں اس سے ملاقات نہ ہونے پائی میں جہاں رہتا تھا وہ ...

مزید پڑھیے

آنکھوں میں ہے بسا ہوا طوفان دیکھنا

آنکھوں میں ہے بسا ہوا طوفان دیکھنا نکلے ہیں دل سے یوں مرے ارمان دیکھنا بھولا ہوں جس کے واسطے میں اپنے آپ کو وہ بھی ہے میرے حال سے انجان دیکھنا دیکھا جو مسکراتے ہوئے آج ان کو پھر روشن ہوا ہے جینے کا امکان دیکھنا ہے حرف حرف زخم کی صورت کھلا ہوا فرصت ملے تو تم مرا دیوان ...

مزید پڑھیے
صفحہ 123 سے 4657