دل کے تاتار میں یادوں کے اب آہو بھی نہیں
دل کے تاتار میں یادوں کے اب آہو بھی نہیں آئینہ مانگے جو ہم سے وہ پری رو بھی نہیں دشت تنہائی میں آواز کے گھنگرو بھی نہیں اور ایسا بھی کہ سناٹے کا جادو بھی نہیں زندگی جن کی رفاقت پہ بہت نازاں تھی ان سے بچھڑی تو کوئی آنکھ میں آنسو بھی نہیں چاہتے ہیں رہ مے خانہ نہ قدموں کو ملے لیکن ...