شاعری

واقعہ کوئی تو ہو جاتا سنبھلنے کے لیے

واقعہ کوئی تو ہو جاتا سنبھلنے کے لیے راستہ مجھ کو بھی ملتا کوئی چلنے کے لیے کیوں نہ سوغات سمجھ کر میں اسے کرتا قبول بھیجتے زہر وہ مجھ کو جو نگلنے کے لیے اتنی سردی ہے کہ میں بانہوں کی حرارت مانگوں رت یہ موزوں ہے کہاں گھر سے نکلنے کے لیے چاہیے کوئی اسے ناز اٹھانے والا دل تو تیار ...

مزید پڑھیے

برباد ہو گئے ہیں بہت تیرے پیار میں

برباد ہو گئے ہیں بہت تیرے پیار میں افسردہ آج بیٹھے ہیں غم کے حصار میں لیتی ہوں روز لطف اذیت بہار میں انگلی چبھوتی رہتی ہوں میں نوک خار میں کب لوٹ کر تو آئے گا اے میرے ہم نشیں صدیاں گزر گئیں ہیں ترے انتظار میں بکھرا ہوا ہے چار سو یادوں کا اک ہجوم ہلچل مچی ہوئی ہے دل بے قرار ...

مزید پڑھیے

روز اب آگ پہ چلنا ہوگا

روز اب آگ پہ چلنا ہوگا اسی ماحول میں پلنا ہوگا راستہ تم کو بدلنا ہوگا ورنہ کانٹوں پہ ہی چلنا ہوگا کچھ دکھائی نہیں دیتا ہے یہاں دشت ظلمت سے نکلنا ہوگا ہم اگر حوصلہ بردار رہے چڑھتے سورج کو بھی ڈھلنا ہوگا دھندھ میں گم ہوا منزل کا سراغ اب ہمیں ہاتھ ہی ملنا ہوگا سیر گلشن کی اجازت ...

مزید پڑھیے

عشق کی دھوپ میں ہم تو جلتے رہے

عشق کی دھوپ میں ہم تو جلتے رہے آبلے پڑ گئے پھر بھی چلتے رہے اک چراغ محبت جلا تھا کہیں شمع کی طرح ہم بھی پگھلتے رہے بے حجابانہ محفل میں وہ آ گئے اور دوانوں کے ارماں مچلتے رہے تنگ حالی میں پورے نہیں ہو سکے خواب مفلس کی آنکھوں میں پلتے رہے انتہا ہو گئی وحشیوں کی یہاں کتنی معصوم ...

مزید پڑھیے

اب میں خود کو آزمانا چاہتی ہوں

اب میں خود کو آزمانا چاہتی ہوں غم میں کھل کر مسکرانا چاہتی ہوں یہ تماشہ بھی دکھانا چاہتی ہوں آگ پانی میں لگانا چاہتی ہوں ہجرتوں کا بوجھ اب اٹھتا نہیں ہے مستقل کوئی ٹھکانا چاہتی ہوں دشمنوں کا امتحاں میں لے چکی ہوں دوستوں کو آزمانا چاہتی ہوں مجھ کو زینتؔ سونے دیتی ہی نہیں ...

مزید پڑھیے

تیری چاہت ہی مری زیست کا سرمایہ ہے

تیری چاہت ہی مری زیست کا سرمایہ ہے خود کو کھویا ہے تو اب پیار ترا پایا ہے جس کی خاطر مری آنکھوں کے دیے روشن تھے آج آنگن میں وہ مہتاب اتر آیا ہے شب فرقت میرے آئینۂ دل میں ہمدم تو نہ آیا تو ترا عکس ابھر آیا ہے اک نہ اک دن اسے احساس ندامت ہوگا بے سبب اس نے مرے پیار کو ٹھکرایا ہے اور ...

مزید پڑھیے

صاف آئینہ ہے کیوں مجھے دھندلا دکھائی دے

صاف آئینہ ہے کیوں مجھے دھندلا دکھائی دے گر عکس ہے یہ میرا تو مجھ سا دکھائی دے مجھ کو تو مار ڈالے گا میرا اکیلا پن اس بھیڑ میں کوئی تو شناسا دکھائی دے برباد مجھ کو دیکھنا چاہے ہر ایک آنکھ مل کر رہوں گا خاک میں ایسا دکھائی دے یہ آسماں پہ دھند سی چھائی ہوئی ہے کیا گر ابر ہے تو ہم کو ...

مزید پڑھیے

ہم لوگ جو خاک چھانتے ہیں

ہم لوگ جو خاک چھانتے ہیں مٹی سے گہر نکالتے ہیں ہے شعلۂ دیں کہ شمع کفر پروانے کہاں یہ جانتے ہیں اس گنبد بے صدا میں ہم لوگ الفاظ کے بت تراشتے ہیں اے سایۂ ابر اب تو رک جا اک عمر سے دھوپ کاٹتے ہیں

مزید پڑھیے

جاں دینا بس ایک زیاں کا سودا تھا

جاں دینا بس ایک زیاں کا سودا تھا راہ طلب میں کس کو یہ اندازہ تھا آنکھوں میں دیدار کا کاجل ڈالا تھا آنچل پہ امید کا تارہ ٹانکا تھا ہاتھوں کی بانکیں چھن چھن چھن ہنستی تھیں پیروں کی جھانجھن کو غصہ آتا تھا ہوا سکھی تھی میری، رت ہمجولی تھی ہم تینوں نے مل کر کیا کیا سوچا تھا ہر کونے ...

مزید پڑھیے

وہ جو اک شکل مرے چار طرف بکھری تھی

وہ جو اک شکل مرے چار طرف بکھری تھی میں نے جب غور سے دیکھا تو مری اپنی تھی پھر اسیروں پہ کسی خواب نے جادو ڈالا رات کچھ حلقۂ زنجیر میں خاموشی تھی یوں تو آداب محبت میں سبھی جائز تھا پھر بھی چپ رہنے میں اک شان دلآویزی تھی رات بھر جاگنے والوں نے پس شمع زرد صبح اک خواب کی صورت کی طرح ...

مزید پڑھیے
صفحہ 124 سے 4657