آداب زندگی: کھانے میں عیب نکالنے کے متعلق رسول اللہ ﷺ کا حکم کیا ہے؟

سیدناابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول ﷺنے کبھی کھانے میں نکتہ چینی نہیں کی۔اگر پسند ہوتا تو کھا لیتے وگرنہ چھوڑدیتے۔

تشریح:

کھانے پینے کی ہر چیز  (طعام) کہلاتی ہے۔طعام اللہ تعالیٰ کی ایک نعمت ہے،اس لیے جب انسان کے سامنے کھانا پیش کیا جائےتو نعمت سمجھتے ہوئے اللہ کا شکر کرےاور بلاچون و چراکھالے۔ہاں،اگر پسند نہ ہو تو چھوڑ دےمگر کھانے میں کیڑے نہ نکالے،کیونکہ سیدنا ابو ہریرہ ؓ فرماتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ کو جو کھانا پسند ہوتا کھا لیتے، اگر مرضی کے مطابق نہ ہوتا تو ترک کر دیتے،لیکن عیب اور نکتہ چینی نہیں کرتے تھے۔

مثال کے طور پر اگر ایک شخص کے سامنے ناقص کھجوریں پیش کی جائیں تو وہ ناقص کہتے ہوئے ٹھکر انہ دے، بلکہ ان کو اللہ تعالیٰ کی نعمت سمجھتے ہوئے شکر بجا لائے، اگر پسند آئیں تو کھالے بصورت دیگر احسن طریقے سے واپس کردےمگر عیب نہ لگائے،کیونکہ کھانے میں عیب نکالنا انسان کے شانِ شایان نہیں ۔

ایسے ہی اگر کھانا پکا کر پیش کیا جائے تو پسند ہوتو کھالے بصورت دیگر ترک کردے لیکن اس میں نکتہ چینی نہ کرے اگر کوئی بندہ نکتہ چینی کرے تو اسے کہہ دیا جائےکہ پسند ہے تو کھالو،وگرنہ چھوڑدو۔

حدیث پاک کے فوائد:

۱۔ کھانے میں عیب نکالنا انسان کے شایانِ شان نہیں۔

۲۔ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کی قدر کرنی چاہیے۔

۳۔ دوسروں کی چاہت اور مرضی کو ملحوظِ خاطر رکھنا چاہیے۔

متعلقہ عنوانات