گرمی سے ہونے والی بیماریو ں سے نجات کیسے حاصل کریں ؟

سائنس دان کہتے ہیں کہ گزرتے وقت کے ساتھ ساتھ سورج زمین کے قریب سے قریب تر ہوتا جا رہا ہےجس کی وجہ سے ہر  سال  درجہ حرارت میں مزید اضافہ ہو رہا ہے۔ گرمی سے ہونے والی بیماریاں جیسے تھکاوٹ  یعنی کہ    Heat Exhaustion اور ہیٹ اسٹروک   Heat stroke   ہر سال جون سے اگست تک عروج پر ہوتی ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس وقت پاکستان کا درجہ حرارت خطرناک حد  تک زیادہ ہوتا ہے۔ گرمی سے ہونے والی تھکاوٹ کی علامات میں کمزوری، پسینہ، دل کی تیز دھڑکن، پٹھوں میں کھنچاؤ، چکر آنا، متلی اور قے شامل ہیں۔

شدید تھکاوٹ Heat stroke کی طرف بڑھ سکتی ہے جو ایک مہلک بیماری ہے ۔ ہیٹ اسٹروک ہر سال پاکستان میں بیشتر اموات کا باعث بنتی ہے۔اس کی علامات میں تیز بخار (103 ڈگری فارن ہائیٹ یا اس سے زیادہ)، سر درد، الجھن، خشک جلد اور بیہوشی شامل ہیں۔

لیکن کچھ ایسی تجاویز ہیں جن پر عمل کرتے ہوئے ہم اس شدید گرم موسم سے اپنی صحت کو محفوظ رکھ سکتے ہیں۔

 1. ہیٹ انڈیکس کی معلومات رکھیں۔

آجکل زیادہ تر موسمی ایپس اور ویب سائٹس میں ہیٹ انڈیکس کی معلومات شامل ہیں۔ ہیٹ انڈیکس کا حساب اصل ہوا کے درجہ حرارت کے ساتھ نسبتاً نمی کے عنصر کے ذریعے لگایا جاتا ہے، اور یہ اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ آپ کا جسم گرمی کو کس طرح محسوس کرتا ہے۔ مثال کے طور پر، اگر ہوا کا درجہ حرارت 96 ڈگریفارن ہائیٹ ہے اور نسبتا نمی 65 فیصد ہے، تو آپ کے جسم کا 121 ڈگری فارن ہائیٹ  ہیٹ انڈیکس ہوگا۔

2۔ مشروب کا زیادہ استعمال کریں۔

پسینے سے پانی کی کمی کی وجہ سے آپ کے جسم کو گرم دنوں میں معمول سے زیادہ پانی کی ضرورت ہوتی ہے، اور کیونکہ پانی گرم جلد پر تیزی سے بھاپ بن جاتا ہے۔گرمی سے ہونے والی بیماریوں سے بچنے کے لئے ہائیڈریٹیڈ رہنا سب سے موثر طریقوں میں سے ایک ہے۔

 زیادہ مقدار میں پانی پئیں، کیفین  جیسے چائے وغیرہ کی ضرورت سے زیادہ مقدار سے پرہیز کریں کیونکہ یہ انسان کے جسم سے پانی کا اخراج بڑھاتی ہیں۔ پیاس محسوس کرنے سے پہلے  پانی پی لینا بھی ضروری ہے کیونکہ پیاس ابتدائی پانی کی کمی کی علامت ہے۔

 یاد رکھنے کی بات :پانی کی بوتل کو ہر وقت اپنے پاس رکھیں تاکہ پانی پینا ایک عادت بن جائے اور یہ کوئی کام محسوس نہ ہو۔پانی کی مقدار  کوئی خاص  نہیں ہے جو آپ کو "پینا" چاہئے کیونکہ ہر ایک کے جسم میں ہائیڈریشن(پانی) کی ضروریات مختلف ہیں۔ اس طرح پانی کا اضافی استعمال گرم اور خشک موسم سے بچنے میں مدد دے سکتا ہے۔

3۔ بچوں کو گرم گاڑی میں نہ چھوڑیں۔

گرم گاڑی سے ہونے والی اموات، جسے گاڑیوں کا ہیٹ اسٹروک بھی کہا جاتا ہے، سب سے زیادہ اس وقت ہوتی ہیں جب لوگ گرم گاڑی میں بچے کو بھول جاتے ہیں،اور بچہ گاڑی سے نہیں نکل سکتا۔ بند گاڑی کے اندر درجہ حرارت صرف 10 منٹ میں 20 ڈگری بڑھ سکتا ہے، اگر کسی کو اندر چھوڑ دیا جائے تو تیزی سے گرمی اور ہیٹ اسٹروک کا باعث بن سکتا ہے۔

 یہ بھی دھیان رکھنا چاہیے کہ کھڑکیوں کو کھولنے سے گاڑی کے اندر درجہ حرارت کم کرنے میں مدد نہیں ملتی۔لہذا، کبھی بھی کسی کو (جانوروں سمیت) گرم گاڑی میں نہ چھوڑیں۔ اور اگر کوئی چھوٹا بچہ لاپتہ ہو جاتا ہے تو فوری طور پر ٹرنک اور قریبی کاروں کی دیگر اندرونی جگہوں کی جانچ کریں تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ وہ اندر پھنسے ہوئے نہیں ہیں۔ اگر آپ کسی بچے یا جانور کو گرم دن میں کار کے اندر دیکھتے ہیں تو جلدی سے والدین اور/یا مالکان کی تلاش کریں اور اگر کار کو فوری طور پر نہیں کھولا جا سکتا تو ہنگامی عملے کو مدد کے لئے کال کریں۔

 4۔سخت سرگرمیوں سے گریز کریں۔

گرم موسم میں چاہے آپ آرام کی حالت میں ہی کیوں نہ ہوں، آپ کے جسم کو اپنے درجہ حرارت کو محفوظ حد میں رکھنے کے لئے زیادہ محنت کرنی پڑ تی ہے۔ اگر آپ گرمی کے موسم میں سخت سرگرمیوں میں مشغول رہتےہیں، تو آپ کے جسم کو اپنے بڑے اعضاء کو زیادہ گرم ہونے سے روکنے کے لئے مزید محنت کرنی پڑتی ہے۔ اس سے تیزی سے پانی کی کمی، گرمی کی تھکاوٹ، ہیٹ اسٹروک اور اعضاء کی ناکامیOrgan Failure ہوسکتا ہے۔

صحت مند رہنے کے لئے دن کے گرم ترین اوقات میں سخت سرگرمیوں سے گریز کریں، زیادہ سے زیادہ سایہ میں رہیں،ڈھیلے ڈھالے اور پتلے  کپڑے پہنیں، اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ آپ زیادہ مقدار میں پانی پیتے ہیں۔

5۔ادویات کے ضمنی اثرات سے آگاہ رہیں۔

آپ جو بھی ادویات لے رہے ہیں ان کے منفی اثرات سے آگاہ ہونا ضروری ہے۔ کچھ ادویات سورج کی روشنی میں آپ کی حساسیت میں اضافہ کر سکتی ہیں (جسے  Photo Sensitivity کہا جاتا ہے)، آپ کا بلڈ پریشر کم کر سکتی ہیں، آپ کے بے ہوش ہونے کا خطرہ بڑھ سکتا ہے یا آپ کو پانی کی کمی اور گرمی سے ہونے والی بیماریوں کا زیادہ خطرہ پیدا کر سکتی ہیں۔   ادویات کو ڈاکٹر کی صلاح  کے بغیراستعمال ہرگز نہ کریں۔

6۔ اگر آپ کو زیادہ خطرہ ہے تو خصوصی احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔

بعض آبادیوں بشمول بچوں، بوڑھوں اور صحت کی بنیادی صورتحال کے حامل افراد کو گرمی سے متعلق بیماریوں کا سامنا کرنے کا خطرہ دوسروں کے مقابلے میں زیادہ ہوتا ہے۔ ان لوگوں کو یہ ہدایت دی جاتی ہے کہ یہ لوگ گرم دنوں میں زیادہ سے زیادہ گھر کے اندر رہیں، ایئر کنڈیشننگ کا استعمال کریں۔ زیادہ مقدار میں مشروب اور پانی پییں، اور اگر انہیں گرمی سے متعلق کسی علامات یا پہلے سے موجود صحت کی حالت میں شدت محسوس ہونا شروع ہو جائے تو فوری طبی امداد حاصل کریں۔

7۔ ہلکے، ڈھیلے ڈھالے کپڑے پہنیں۔

آپ کی جلد آپ کا سب سے بڑا عضو ہے، جس کا مطلب ہے کہ یہ آپ کے جسم کے درجہ حرارت کو محفوظ حد کے اندر رکھنے میں ایک اہم کھلاڑی ہے۔ گرم موسم میں، ہلکے، ڈھیلے ڈھالے کپڑے پہننا یقینی بنائیں جو آپ کی جلد کو پسینہ آنے اور ٹھیک سے ٹھنڈا ہونے کی سہولت فراہم کرتا ہے۔ اس کے علاوہ، اگر آپ ٹوپی پہنتے ہیں، تو اس بات کو یقینی بنائیں کہ یہ اچھی وینٹی لیشن کرتی  ہے۔ کیونکہ جسم کی گرمی کا 50 فیصد کھوپڑی اور چہرے سے خارج ہوتا ہے۔

لہٰذا ان تدابیر کو اختیار کرنے سے نا صرف ہم پرسکون رہ سکتے ہیں بلکہ بہت سی بیماریوں سے بھی محفوظ رہتے ہیں۔اپنے آپ کو اور اپنے خاندان کو ان جان لیوا بیماریوں سے بچا کر رکھیں کیونکہ زندگی صرف ایک بار ملتی ہے۔ٰاس کی قدر کریں۔  دانشمند  کہتے ہیں کہ تندرستی ہزار نعمت ہے۔ اس نعمت کی جتنی حفاظت کی جائے اتنی کم ہے ۔

متعلقہ عنوانات