Shifa Gwaliari

شفا گوالیاری

شفا گوالیاری کی غزل

    ہم جنوں کو زندگی کا مستقر سمجھا کئے

    ہم جنوں کو زندگی کا مستقر سمجھا کئے اے شفاؔ منزل کدھر تھی اور کدھر سمجھا کئے وائے یہ کوتاہیٔ احساس و تنگیٔ نظر زندگی کو زندگی بھر مختصر سمجھا کئے کارواں پہنچے قریب سعیٔ انجام سفر اور ہم مفہوم آغاز سفر سمجھا کئے بے خودی نے کس قدر گمراہ رکھا عشق کو ہم تصور ہی کو حسن معتبر سمجھا ...

    مزید پڑھیے

    غم کی جو لذتیں ہیں انہیں جاوداں بنا

    غم کی جو لذتیں ہیں انہیں جاوداں بنا درد نہاں کو چارۂ درد نہاں بنا امید و یاس جس میں نہ ہوں وہ جہاں بنا یعنی نئی زمیں نیا آسماں بنا اور آرزوئے سیر چمن کو بہار میں اور اے اسیر کنج قفس آشیاں بنا مشق وفا میں کیا کہوں یہ غم نصیب دل کن مشکلوں سے خوگر ضبط فغاں بنا وہم و خیال پر بھی ...

    مزید پڑھیے

    کون آ گیا یہ حشر کا ساماں لئے ہوئے

    کون آ گیا یہ حشر کا ساماں لئے ہوئے دامن میں اپنے میرا گریباں لئے ہوئے ہر ایک غم ہے عیش کا عنواں لئے ہوئے شام خزاں ہے صبح بہاراں لئے ہوئے سجدہ ہے میرا ذوق فراواں لئے ہوئے اٹھے گا اب تو سر در جاناں لئے ہوئے بعد رہائی بھی نہ میں زنداں سے جاؤں گا بیٹھا رہوں گا عزت زنداں لئے ہوئے اب ...

    مزید پڑھیے

    ذوق سجدہ ایک نقش کامراں بنتا گیا

    ذوق سجدہ ایک نقش کامراں بنتا گیا آستاں پر ان کے میرا آستاں بنتا گیا بے نشانی کے سہارے پر نشاں بنتا گیا ضامن منزل غبار کارواں بنتا گیا قدرتاً بربادیوں کی داستاں بنتا گیا خود بخود بجلی کی زد میں آشیاں بنتا گیا کیا خطا صیاد کی اور باغباں کا کیا قصور گلستاں میں خود تو ننگ گلستاں ...

    مزید پڑھیے

    حد عنواں سے آگے آخر افسانے کہاں جاتے

    حد عنواں سے آگے آخر افسانے کہاں جاتے تری محفل سے بڑھ کر تیرے دیوانے کہاں جاتے حقیقت سے گزر کر آئنہ خانے کہاں جاتے اگر ہم تک نہیں آتے تو پیمانے کہاں جاتے غم دوراں نے بڑھ کر لو بڑھا دی شمع ہستی کی غم جاناں کے یہ بھٹکے ہوئے جانے کہاں جاتے نگاہیں تھیں ہماری فرق خاص و عام سے آگے اگر ...

    مزید پڑھیے

    خرد کی راہ سے دیوانگی تک بات کیوں پہنچے

    خرد کی راہ سے دیوانگی تک بات کیوں پہنچے شعور غم کی آشفتہ سری تک بات کیوں پہنچے وقار عشق کی غم یا خوشی تک بات کیوں پہنچے ہزاروں اور بھی دل ہیں اسی تک بات کیوں پہنچے اگر دامن بچے رہبر کی الجھن سے تو اچھا ہے خراب جستجو کی گمرہی تک بات کیوں پہنچے نگاہ دل کے پرتو سے کریں شام و سحر ...

    مزید پڑھیے

    لبوں پر ان کے حیات آفریں ہنسی نہ رہی

    لبوں پر ان کے حیات آفریں ہنسی نہ رہی گلوں میں روح ستاروں میں روشنی نہ رہی خدا شناسوں کی پہچان ہی کوئی نہ رہی کہ سرکشی بھی بہ انداز سرکشی نہ رہی فسانہ گردش دوراں کا نظم کر لیتے مگر نگاہ میں ان کی وہ برہمی نہ رہی وقار ذوق تجسس پہ حرف آئے گا اگر شریک سفر اپنے گمرہی نہ رہی ہے اپنا ...

    مزید پڑھیے

    وہ پہلے سوچ لیں کھلتی ہوئی کلی کیا ہے

    وہ پہلے سوچ لیں کھلتی ہوئی کلی کیا ہے جو سوچتے ہیں کہ ترکیب زندگی کیا ہے کدھر ہے غیرت غم کچھ مجھے سہارا دے وہ مجھ سے پوچھ رہے ہیں تری خوشی کیا ہے وفا کا راز نہ سمجھا سکا کوئی اب تک کہ اس کی کیا ہے حقیقت یہ واقعی کیا ہے یہی تو ہوتی ہے سارے رخوں کا آئینہ کوئی سمجھ کے تو دیکھے کہ بے ...

    مزید پڑھیے

    یہ جنوں ہی سہی پورا مگر ارماں کر دو

    یہ جنوں ہی سہی پورا مگر ارماں کر دو اپنے ہاتھوں سے مرا چاک گریباں کر دو بات تو جب ہے کہ بیگانۂ درماں کر دو اب پریشاں ہی کیا ہے تو پریشاں کر دو نشتر نیم نگاہی کی قسم ہے تم کو دل کے ہر زخم کو تصویر گلستاں کر دو تم سما جاؤ مری روح میں نغمہ بن کر آؤ ساز دل غمگیں کو غزل خواں کر دو یا ...

    مزید پڑھیے

    توڑ کر ہم بے خودی کی حد خودی تک آ گئے

    توڑ کر ہم بے خودی کی حد خودی تک آ گئے موت سے کرکے بغاوت زندگی تک آ گئے اپنی منزل آپ ہی خود آ رہے ہیں اب نظر ہو نہ ہو ہم آج اپنی روشنی تک آ گئے اے غم عالم تری اس دل نوازی کے نثار تیرے نزدیک آ کے جیسے ہر خوشی تک آ گئے کیوں فضاؤں میں نظر آتے ہیں جلوؤں کے غبار کیا مہ و خورشید گرد آدمی ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 1 سے 2