خرد کی راہ سے دیوانگی تک بات کیوں پہنچے
خرد کی راہ سے دیوانگی تک بات کیوں پہنچے
شعور غم کی آشفتہ سری تک بات کیوں پہنچے
وقار عشق کی غم یا خوشی تک بات کیوں پہنچے
ہزاروں اور بھی دل ہیں اسی تک بات کیوں پہنچے
اگر دامن بچے رہبر کی الجھن سے تو اچھا ہے
خراب جستجو کی گمرہی تک بات کیوں پہنچے
نگاہ دل کے پرتو سے کریں شام و سحر روشن
مہ و خورشید کی تابندگی تک بات کیوں پہنچے
محبت کی کہانی ہو کہ نفرت کی حکایت ہو
کسی کی بھی سہی لیکن کسی تک بات کیوں پہنچے
نکھرنا ہے تو نکھرے اپنے ہی آئینے میں فطرت
کسی رخ سے نگاہ آدمی تک بات کیوں پہنچے
محبت خود ہی حل کر لے محبت کے معموں کو
الجھنے کو خودی و بے خودی تک بات کیوں پہنچے
سمو دیں حال کے دل میں جو مستقبل کی دھڑکن کو
تو بڑھ کر اس صدی سے اس صدی تک بات کیوں پہنچے
سکوت گل ہی آئینہ بنا دے راز گلشن کو
شفاؔ اپنے مذاق شاعری تک بات کیوں پہنچے