حد عنواں سے آگے آخر افسانے کہاں جاتے

حد عنواں سے آگے آخر افسانے کہاں جاتے
تری محفل سے بڑھ کر تیرے دیوانے کہاں جاتے


حقیقت سے گزر کر آئنہ خانے کہاں جاتے
اگر ہم تک نہیں آتے تو پیمانے کہاں جاتے


غم دوراں نے بڑھ کر لو بڑھا دی شمع ہستی کی
غم جاناں کے یہ بھٹکے ہوئے جانے کہاں جاتے


نگاہیں تھیں ہماری فرق خاص و عام سے آگے
اگر وہ آ بھی جاتے ہم سے پہچانے کہاں جاتے


یہ رندوں کی ہے شان بے نیازی ساقیو ورنہ
نہ جانے تم کہاں ہوتے یہ میخانے کہاں جاتے


بھرم اشک الم کا رکھ لیا ذروں کے سینوں نے
ستاروں کی جبینیں ورنہ سلگانے کہاں جاتے


بہار آئے بغیر ان پر شفاؔ ہے بے خودی طاری
بہار آتی تو کیا معلوم مستانے کہاں جاتے