ہم جنوں کو زندگی کا مستقر سمجھا کئے
ہم جنوں کو زندگی کا مستقر سمجھا کئے اے شفاؔ منزل کدھر تھی اور کدھر سمجھا کئے وائے یہ کوتاہیٔ احساس و تنگیٔ نظر زندگی کو زندگی بھر مختصر سمجھا کئے کارواں پہنچے قریب سعیٔ انجام سفر اور ہم مفہوم آغاز سفر سمجھا کئے بے خودی نے کس قدر گمراہ رکھا عشق کو ہم تصور ہی کو حسن معتبر سمجھا ...