Rifat Sarosh

رفعت سروش

رفعت سروش کی نظم

    میرا وطن ہندوستاں

    میرا وطن ہندوستاں ہر راہ جس کی کہکشاں کوہ گراں سے کم نہیں جس کے جیالے نوجواں یہ ویر و گوتم کی زمیں امن و اہنسا کا چمن اکبر کے خوابوں کا جہاں چشتی و نانک کا وطن شمعیں ہزاروں ہیں مگر ہے ایکتا کی انجمن تہذیب کا گہوارہ ہیں گنگ و جمن کی وادیاں میرا وطن ہندوستاں تاریخ کی عظمت ہے یہ ...

    مزید پڑھیے

    کسان

    بے آب و گیاہ بانجھ دھرتی مجھ سے یہ سوال کر رہی ہے اے خالق نغمۂ بہاراں صدیوں ہوں میں خزاں رسیدہ مفلوج ہیں کب سے میرے اعضا تم میرا علاج ہیں کب سے میرے اعضا تم میرا علاج کر سکو گے میں چپ ہوں خموش ہوں کہوں کیا شاعر ہوں میں لفظوں کا مسیحا اے کاش میں اک کسان ہوتا اس دھرتی کے منجمد لہو ...

    مزید پڑھیے

    غالبؔ

    بیان غالبؔ رنگیں نوا ہے قلم شاعر کا سجدے میں جھکا ہے پئے تعظیم صف بستہ ہیں الفاظ دل شاعر میں اک طوفاں بپا ہے عقیدت اس سے ہر اہل نظر کو کہ وہ فکر و نظر کا رہنما ہے وہ غالب وہ شہنشاہ معانی وہ غالبؔ جس کی عظمت غیر فانی سلاست اور فصاحت اللہ اللہ کہ دریائے سخن مانگے روانی بہت استاد شہ ...

    مزید پڑھیے

    خاک جامعہ

    خاک پاک جامعہ آسماں سے بڑھ گیا ہے آج تیرا مرتبہ ہے تری آغوش میں اب محو خواب علم و تہذیب و خرد کا آفتاب آج ہے مدفون تیرے سینۂ بے نور میں مادر ہندوستاں کا نور عین صدر بزم اہل دل ذاکر حسین

    مزید پڑھیے

    نئی بستی

    بوڑھی دہلی کے کھنڈروں میں بستی نے انگڑائی لی ہے ماضی کے اس ویرانے میں رنگ برنگے پھول کھلے ہیں پورب پچھم اتر دکھن اک مرکز پر آن ملے ہیں لیکن اس بستی کے باسی اک دوجے سے بیگانے ہیں سب مطلب کے دیوانے ہیں بابو لوگوں کی یہ بستی کاغذ کے پھولوں کا چمن ہے رنگ برنگے ان پھولوں میں بوئے محبت ...

    مزید پڑھیے

    زرد پتے

    خزاں کے پتے گل و یاسمن کی وادی میں اڑا کے لائے ہیں باد شمال کے طوفاں یہ زرد پتے ہیں یرقاں زدہ درختوں کے یہ زرد پتے ہیں مدقوق زندگی کے نشاں خزاں کا سایہ نہ پڑ جائے اس گلستاں پر اٹھاؤ پرچم گل اے چمن کے متوالو ہوا کے رخ کو بدل دو بہار کی موجو اڑا دو سمت مخالف میں زرد پتوں کو

    مزید پڑھیے
صفحہ 2 سے 2