نئی بستی
بوڑھی دہلی کے کھنڈروں میں
بستی نے انگڑائی لی ہے
ماضی کے اس ویرانے میں
رنگ برنگے پھول کھلے ہیں
پورب پچھم اتر دکھن
اک مرکز پر آن ملے ہیں
لیکن اس بستی کے باسی
اک دوجے سے بیگانے ہیں
سب مطلب کے دیوانے ہیں
بابو لوگوں کی یہ بستی
کاغذ کے پھولوں کا چمن ہے
رنگ برنگے ان پھولوں میں
بوئے محبت بوئے نفرت
بوئے رفاقت بوئے رقابت
کچھ بھی نہیں ہے کچھ بھی نہیں ہے
پتھر ہیں ان کے پہلو میں
مر مٹنے کی تڑپ نہیں ہے
جینے کا ہیجان نہیں ہے
وقت کا عفریت اپنی پیٹھ پہ
ان کو لادے گھوم رہا ہے
گھر سے دفتر دفتر سے گھر
دفتر سے گھر گھر سے دفتر