میرا وطن ہندوستاں
میرا وطن ہندوستاں ہر راہ جس کی کہکشاں
کوہ گراں سے کم نہیں جس کے جیالے نوجواں
یہ ویر و گوتم کی زمیں امن و اہنسا کا چمن
اکبر کے خوابوں کا جہاں چشتی و نانک کا وطن
شمعیں ہزاروں ہیں مگر ہے ایکتا کی انجمن
تہذیب کا گہوارہ ہیں گنگ و جمن کی وادیاں
میرا وطن ہندوستاں
تاریخ کی عظمت ہے یہ جمہوریت کی شان ہے
روحانیت کی روح ہے سب مذہبوں کی جان ہے
یہ اپنا ہندوستان ہے یہ اپنا ہندوستان ہے
حاصل یہاں انسان کو ہر طرح کی آزادیاں
میرا وطن ہندوستاں
جب دل سے دل ملتے گئے مٹتے گئے سب فاصلے
یہ آج کا نغمہ نہیں صدیوں کے ہیں یہ سلسلے
صدیوں سے مل کر ہی بڑھے سب اہل دل کے قافلے
اک ساتھ اٹھتی ہے یہاں آواز ناقوس و اذاں
میرا وطن ہندوستاں
تاریخ کے اس موڑ پر ہم فرض سے غافل نہیں
قابو نہ جس پر پا سکیں ایسی کوئی مشکل نہیں
جس کو نہ ہم سر کر سکیں ایسی کوئی منزل نہیں
ہاں بانکپن کی شان سے ہے کارواں اپنا رواں
میرا وطن ہندوستاں