Rais Farogh

رئیس فروغ

نئی غزل کے اہم ترین پاکستانی شاعروں میں نمایاں

One of the most outstanding Pakistani poets of new ghazal.

رئیس فروغ کی نظم

    ڈاکٹر فانچو

    کسی روز میں شہر کے پاگلوں کو ڈنر پر بلاؤں گا ان سے کہوں گا کہ اے دوستو، دشمنوں، مہربانو، کمینو یہ مانا کہ تم کہکشاں کے جراثیم ہو اور سب راستے روم ہی کو گئے ہیں مگر اب اٹالی سے آتی ہوئی اک سڑک کے سپاہی کی سیٹی سنو جو کہتی ہے تم مر چکے ہو نہیں تو میں چلتی ہوئی کار سے کود کر اپنے بتیس ...

    مزید پڑھیے

    امپوسٹر

    کمرے میں بلب آنگن میں اندھیرا آنگن میں بلب کمرے میں اندھیرا تو پھر اس نقطۂ نہفتہ کا تعین کہ جس نقطۂ نہفتہ سے اندرون بھی روشن بیرون بھی روشن ایسی کوئی جگہ ہوگی تو سہی پر مجھے اس کا علم نہیں علم نہیں تو جستجو جستجوئے نقطۂ نہفتہ

    مزید پڑھیے

    شاید گلاب شاید کبوتر

    پھر کیا ہوا پھر یوں ہوا کہ اس کی ایک آنکھ سے چمگادڑ نے چھلانگ لگائی اور ایک آنکھ سے پھڑپھڑاتا ہوا خار پشت نکلا پھر جو وہ ایک دوسرے پر جھپٹے ہیں تو ایسے جھپٹے کہ منڈیریں کبوتروں سے اور کیاریاں گلابوں سے بھر گئیں اس دن کے بعد ہم نے مداری کو کبھی نہیں دیکھا اچھا اب تم میرے لیے پان ...

    مزید پڑھیے

    کمرا

    مجھے نہ کھولو مرے اندھیرے میں ایک لڑکی لباس تبدیل کر رہی ہے

    مزید پڑھیے

    خانم جان

    مٹی کا بدن ناچے تو کرن وہ روشنیوں میں ناچنے والی خانم جان اس کے ہاتھوں کی بدلی میں میرے باز اپنا آنگن بھول گئے میں نے کہا میں نے تیری دو آنکھوں میں کتنے بستر پینٹ کیے جس وقت یہ کمرہ چھوڑوں گا اپنے سارے خواب تجھ سے واپس لے لوں گا خانم جان اس نے کہا آؤ صبح سے پہلے ہم تم پچھلے ایک ...

    مزید پڑھیے

    چڑیا گھر

    چڑیا گھر میں بسنے والی کیسا مزاج عالی ہے منو بھیا پوچھ رہے ہیں کیا کوئی پنجرہ خالی ہے دوڑ میں سب سے اول چیتا جنگل کی ہر ریس میں جیتا جلدی جلدی بول رے ساتھی کچا پپیتا پکا پپیتا جنگل کے سلطان کو دیکھو شیر ببر کی شان کو دیکھو ایسا بہادر کوئی نہیں ہے دل والے مہمان کو دیکھو بھاگ رہا ہے ...

    مزید پڑھیے

    چپکے سے

    کل رات کہانی پریوں کی باجی نے سنائی چپکے سے پھر دھیرے دھیرے ہوا چلی اور نندیا آئی چپکے سے ہلکے تھے کہیں گہرے تھے کہیں رنگوں کی وہ بارش دیکھی تھی تھیں جس میں بہت سی تصویریں ہم نے وہ نمائش دیکھی تھی پھر سب سے چھپا کے ہم نے بھی تصویر بنائی چپکے سے فرصت جو ملی تو ہم یوں ہی کچھ وقت ...

    مزید پڑھیے

    سانپ والی

    بانہوں میں سانپ لپیٹے جب تو مجھ سے ملتی ہے تیری سانس میں ایک نہ ایک زہر کی لہر کم ہوتی ہے سن ری سجنی جنم جنم سے ایک شریر آدھا تیرا آدھا میرا تو مر جائے تو سارا میرا

    مزید پڑھیے

    کالی ریت

    مٹیالی راتوں کا پانی کالے بستروں پر بہتا ہے تم نے سمندر کے کنارے بستروں کا خواب دیکھا اور اپنے فیصلے میں ظاہر ہو گئیں پھر وہ بندر گاہ خالی ہو گئی جس پر دو شاخیں لہراتی ہیں اور ایک پتھر چمکتا ہے میں ان بارشوں کو تھمتا ہوا دیکھتا ہوں جن کی برہنگی میں ہم سمندروں تک جاتے تھے اور ...

    مزید پڑھیے

    ہم سورج چاند ستارے

    ہم سورج چاند ستارے ہیں یہ دن رات ہمارے سورج نے کہا ہے ہم سے ہم سب کو بچائیں غم سے دنیا میں ہمارے دم سے بہیں روشنیوں کے دھارے کوئی چاند کہے کوئی چندا یہ دل ہے پیار کا بندہ ہے پیار ہی اپنا دھندا ہمیں سب لگتے ہیں پیارے کریں ہم جو پڑھائی جم کے یوں نام ہمارا چمکے جس طرح ستارا دمکے یہی ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 2 سے 4