Mohammad Ismail Aasi Aarwi

محمد اسماعیل آسی آروی

محمد اسماعیل آسی آروی کی غزل

    چاہے جو حال بھی ہو ان کی نظر ہونے تک

    چاہے جو حال بھی ہو ان کی نظر ہونے تک ہم جئے جائیں گے آہوں میں اثر ہونے تک بے خودی نام ہے احساس خودی کا شاید ورنہ کچھ اور تھا منصور خبر ہونے تک صبر سے کام لے اے دل اس اندھیرے سے نہ ڈر ظلمت شب ہے سپیدیٔ سحر ہونے تک جب جو چاہیں وہ کہیں اپنے کو واعظ لیکن برتری مجھ کو تو حاصل ہے بشر ...

    مزید پڑھیے

    کیا پوچھتے ہو حال دل بیقرار آج

    کیا پوچھتے ہو حال دل بیقرار آج جو کل تھی ہے وہ گردش لیل و نہار آج اس پیکر جفا کو نہ کوس اے دل حزیں تیری طرح ہے وہ بھی بہت بیقرار آج میرے ہی دم سے رہ گیا مے خانے میں بھرم ورنہ جناب شیخ کو ملتا ادھار آج اس نے لکھا ہے بہر عیادت کل آئیں گے جینے بھی دے گا مجھ کو دل بے قرار آج کس مست کی ...

    مزید پڑھیے

    ہزار زخم ہیں دل پر جگر پہ کھائے ہوئے

    ہزار زخم ہیں دل پر جگر پہ کھائے ہوئے مگر ملے جو کسی سے تو مسکرائے ہوئے کچھ اس ادا سے وہ آئے نظر جھکائے ہوئے تمام رہ گئے شکوے زباں پہ آئے ہوئے ادھر تو ساغر و پیمانہ والے رہتے ہیں ادھر کہاں چلے واعظ قدم بڑھائے ہوئے بڑھو کچھ اور کہ تاریکیٔ جفا کم ہو اسی طرح سے چراغ وفا جلائے ...

    مزید پڑھیے

    ہر شاخ گل کو بے سر و ساماں بنا دیا

    ہر شاخ گل کو بے سر و ساماں بنا دیا یاروں نے گلستاں کو بیاباں بنا دیا تخلیق سب کی ایک ہے اعمال نے مگر کافر تجھے تو مجھ کو مسلماں بنا دیا اس جان گلستاں کی تمنا نے اے ندیم مجھ کو ہر اک چمن سے گریزاں بنا دیا دشوار ہو چکی تھی مجھے زندگی مگر ساقیٔ دل نواز نے آساں بنا دیا آسیؔ خدا کا ...

    مزید پڑھیے

    خرد والا بھی اپنے آپ سے بیگانہ آتا ہے

    خرد والا بھی اپنے آپ سے بیگانہ آتا ہے جو ان کی بزم سے آتا ہے وہ دیوانہ آتا ہے نہ جوش مے نہ کیف نغمۂ رندانہ آتا ہے اک ایسا وقت بھی اے ساقئ مے خانہ آتا ہے بیان درد دل کو واعظ فرزانہ آتا ہے وہ کیا جانے حقیقت اس کو تو افسانہ آتا ہے میں چلتا تو ہوں گھر سے جانب مسجد مگر ناصح قدم رک ...

    مزید پڑھیے

    نہ قہقہہ نہ تبسم نہ اشک پیہم ہے

    نہ قہقہہ نہ تبسم نہ اشک پیہم ہے جہاں پہ ہم ہیں وہاں کچھ عجیب عالم ہے جو پہلے آج سے تھا آج بھی وہی غم ہے یہ دور جام نہیں ہے فریب پیہم ہے برا نہ مانو تو اک بات تم سے عرض کروں تمہارا لطف بہ اندازۂ ستم کم ہے یہ صبح و شام کی مستی یہ نشۂ شب و روز ترے بغیر کوئی کیف ہو مجھے سم ہے سر نیاز ...

    مزید پڑھیے

    ویسے اس آب و گل میں کیا نہ ہوا

    ویسے اس آب و گل میں کیا نہ ہوا کوئی بندہ مگر خدا نہ ہوا اف رے ان کے جمال کا عالم مجھ سے اظہار مدعا نہ ہوا ساقیٔ میکدہ نے جو دے دی میں اسے پی کے بد مزہ نہ ہوا مجھ سے عبرت جہاں کو حاصل ہے میں برا ہو کہ بھی برا نہ ہوا زخم دل کا شمار کون کرے تیر اس کا کوئی خطا نہ ہوا قید غم سے مگر رہا ...

    مزید پڑھیے

    دیار عشق میں واعظ خرد کا کام نہیں

    دیار عشق میں واعظ خرد کا کام نہیں ادھر نہ بھول کے جانا وہ راہ عام نہیں وہ صبح صبح نہیں ہے وہ شام شام نہیں کہ جس میں ان کی طرف سے کوئی پیام نہیں وہ راہ رو ہوں کہ منزل نہیں قیام نہیں تلاش دوست میں کچھ قید صبح و شام نہیں یہ کیف عشق ہے وقتی سرور جام نہیں تری طرح مرا ناصح خیال خام ...

    مزید پڑھیے

    شکستہ ساز محبت کی اک صدا ہوں میں

    شکستہ ساز محبت کی اک صدا ہوں میں جو رہ گئی ہے لرز کر وہ التجا ہوں میں دم نظارہ یہ دیوانگیٔ ذوق نگاہ وہ مجھ کو ڈھونڈتے ہیں ان کو ڈھونڈھتا ہوں میں جہاں یہ کفر ہے تقدیر کا گلہ کرنا اب اس مقام پہ اپنے کو پا رہا ہوں میں سلام اے نگۂ بے نیاز گرمئ عشق خطا معاف کہ اب سرد ہو رہا ہوں ...

    مزید پڑھیے

    دیکھا ہے اک نظر انہیں انجام جو بھی ہو

    دیکھا ہے اک نظر انہیں انجام جو بھی ہو قسمت میں اپنی اے دل ناکام جو بھی ہو میری نظر پہ سارا زمانہ ہے معترض لیکن وہ اک ادا ہے لب بام جو بھی ہو امکان پھر رہائی کی کرتا ہے کوششیں مرغ بلا نصیب تہ دام جو بھی ہو کچھ این و آں کو دخل نہیں راہ عشق میں اب ان کا میرے واسطے پیغام جو بھی ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 1 سے 2