Mohammad Ismail Aasi Aarwi

محمد اسماعیل آسی آروی

محمد اسماعیل آسی آروی کے تمام مواد

14 غزل (Ghazal)

    چاہے جو حال بھی ہو ان کی نظر ہونے تک

    چاہے جو حال بھی ہو ان کی نظر ہونے تک ہم جئے جائیں گے آہوں میں اثر ہونے تک بے خودی نام ہے احساس خودی کا شاید ورنہ کچھ اور تھا منصور خبر ہونے تک صبر سے کام لے اے دل اس اندھیرے سے نہ ڈر ظلمت شب ہے سپیدیٔ سحر ہونے تک جب جو چاہیں وہ کہیں اپنے کو واعظ لیکن برتری مجھ کو تو حاصل ہے بشر ...

    مزید پڑھیے

    کیا پوچھتے ہو حال دل بیقرار آج

    کیا پوچھتے ہو حال دل بیقرار آج جو کل تھی ہے وہ گردش لیل و نہار آج اس پیکر جفا کو نہ کوس اے دل حزیں تیری طرح ہے وہ بھی بہت بیقرار آج میرے ہی دم سے رہ گیا مے خانے میں بھرم ورنہ جناب شیخ کو ملتا ادھار آج اس نے لکھا ہے بہر عیادت کل آئیں گے جینے بھی دے گا مجھ کو دل بے قرار آج کس مست کی ...

    مزید پڑھیے

    ہزار زخم ہیں دل پر جگر پہ کھائے ہوئے

    ہزار زخم ہیں دل پر جگر پہ کھائے ہوئے مگر ملے جو کسی سے تو مسکرائے ہوئے کچھ اس ادا سے وہ آئے نظر جھکائے ہوئے تمام رہ گئے شکوے زباں پہ آئے ہوئے ادھر تو ساغر و پیمانہ والے رہتے ہیں ادھر کہاں چلے واعظ قدم بڑھائے ہوئے بڑھو کچھ اور کہ تاریکیٔ جفا کم ہو اسی طرح سے چراغ وفا جلائے ...

    مزید پڑھیے

    ہر شاخ گل کو بے سر و ساماں بنا دیا

    ہر شاخ گل کو بے سر و ساماں بنا دیا یاروں نے گلستاں کو بیاباں بنا دیا تخلیق سب کی ایک ہے اعمال نے مگر کافر تجھے تو مجھ کو مسلماں بنا دیا اس جان گلستاں کی تمنا نے اے ندیم مجھ کو ہر اک چمن سے گریزاں بنا دیا دشوار ہو چکی تھی مجھے زندگی مگر ساقیٔ دل نواز نے آساں بنا دیا آسیؔ خدا کا ...

    مزید پڑھیے

    خرد والا بھی اپنے آپ سے بیگانہ آتا ہے

    خرد والا بھی اپنے آپ سے بیگانہ آتا ہے جو ان کی بزم سے آتا ہے وہ دیوانہ آتا ہے نہ جوش مے نہ کیف نغمۂ رندانہ آتا ہے اک ایسا وقت بھی اے ساقئ مے خانہ آتا ہے بیان درد دل کو واعظ فرزانہ آتا ہے وہ کیا جانے حقیقت اس کو تو افسانہ آتا ہے میں چلتا تو ہوں گھر سے جانب مسجد مگر ناصح قدم رک ...

    مزید پڑھیے

تمام