Mohammad Ismail Aasi Aarwi

محمد اسماعیل آسی آروی

محمد اسماعیل آسی آروی کی غزل

    کہاں کسی کی نظر ہے تری نظر کی طرح

    کہاں کسی کی نظر ہے تری نظر کی طرح جو کام دل کا بھی کرتی چلے جگر کی طرح بہت سے ایسے بھی دنیا میں لوگ ملتے ہیں جو با خبر ہیں مگر ہیں وہ بے خبر کی طرح یہ بربریت و وحشت یہ آگ اور یہ دھواں بشر کو رہنا بھی مشکل ہے اب بشر کی طرح اسیر حور ہیں واعظ اب ان کی کون سنے کہانی آپ کی ہے طول مختصر ...

    مزید پڑھیے

    روداد غم میں ڈھونڈئیے لطف بیاں نہیں

    روداد غم میں ڈھونڈئیے لطف بیاں نہیں یہ تو حدیث دل ہے کوئی داستاں نہیں شکوہ نہیں گلہ نہیں آہ و فغاں نہیں اپنا جو حال ہے وہ کسی پر عیاں نہیں اپنا یقیں کبھی بھی اسیر‌ گماں نہیں اے شیخ ان کے میرے کوئی درمیاں نہیں اے دل جفائے اہل جہاں سے نہ ہو ملول ان کی رضا جو ہو تو مصیبت گراں ...

    مزید پڑھیے

    نہ آنا تھا نہ آیا آنے والا

    نہ آنا تھا نہ آیا آنے والا گیا دنیا سے آخر جانے والا چھپاؤ لاکھ تم اپنے کو لیکن تمہیں پا کر رہے گا پانے والا محبت کو سمجھ سے واسطہ کیا کہو اب چپ رہے سمجھانے والا یہاں بے سود ہے ذکر غم دل یہاں کوئی نہیں غم کھانے والا مجھے تو ہے غرض انسانیت سے حرم والا ہو یا بت خانے والا سمجھنے ...

    مزید پڑھیے

    تری بربادیوں کا ذکر بزم دل براں تک ہے

    تری بربادیوں کا ذکر بزم دل براں تک ہے کہاں کی بات ہے اے دل مگر پہنچی کہاں تک ہے تو کیا جانے محبت کے مزے اے ناصح ناداں پہنچ تری نگاہوں کی فقط سود و زیاں تک ہے ہم انساں ہیں مگر تخلیق اعلیٰ ہیں کہ اے ہمدم ہمارے اوج کا چرچا زمیں سے آسماں تک ہے محبت آزماتی ہے محبت کرنے والوں کو یہ ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 2 سے 2