خرد والا بھی اپنے آپ سے بیگانہ آتا ہے

خرد والا بھی اپنے آپ سے بیگانہ آتا ہے
جو ان کی بزم سے آتا ہے وہ دیوانہ آتا ہے


نہ جوش مے نہ کیف نغمۂ رندانہ آتا ہے
اک ایسا وقت بھی اے ساقئ مے خانہ آتا ہے


بیان درد دل کو واعظ فرزانہ آتا ہے
وہ کیا جانے حقیقت اس کو تو افسانہ آتا ہے


میں چلتا تو ہوں گھر سے جانب مسجد مگر ناصح
قدم رک جاتے ہیں رستے میں جب مے خانہ آتا ہے


خرد والوں سے جب حل مسئلوں کے ہو نہیں پاتے
تو پھر اس کام کی خاطر کوئی دیوانہ آتا ہے


بہت مشکل ہے ان سے بچ کے روداد الم کہنا
کہ افسانے سے پہلے صاحب افسانہ آتا ہے


نہ جانے کون سی لذت ہے اس سوزش میں اے آسیؔ
کہ پیش شمع جلنے کے لئے پروانہ آتا ہے