ویسے اس آب و گل میں کیا نہ ہوا

ویسے اس آب و گل میں کیا نہ ہوا
کوئی بندہ مگر خدا نہ ہوا


اف رے ان کے جمال کا عالم
مجھ سے اظہار مدعا نہ ہوا


ساقیٔ میکدہ نے جو دے دی
میں اسے پی کے بد مزہ نہ ہوا


مجھ سے عبرت جہاں کو حاصل ہے
میں برا ہو کہ بھی برا نہ ہوا


زخم دل کا شمار کون کرے
تیر اس کا کوئی خطا نہ ہوا
قید غم سے مگر رہا نا ہوا
میں نے کوشش بھی کی دعا بھی کی
قید غم سے مگر رہا نہ ہوا


مر گیا آسیؔٔ شکستہ دل
یہ بھی اچھا ہوا برا نہ ہوا