دیار عشق میں واعظ خرد کا کام نہیں
دیار عشق میں واعظ خرد کا کام نہیں
ادھر نہ بھول کے جانا وہ راہ عام نہیں
وہ صبح صبح نہیں ہے وہ شام شام نہیں
کہ جس میں ان کی طرف سے کوئی پیام نہیں
وہ راہ رو ہوں کہ منزل نہیں قیام نہیں
تلاش دوست میں کچھ قید صبح و شام نہیں
یہ کیف عشق ہے وقتی سرور جام نہیں
تری طرح مرا ناصح خیال خام نہیں
نگاہ قہر کا مرکز تھا کون محفل میں
حضور کہتے ہیں تیرا کوئی مقام نہیں
یہ فلسفہ یہ سیاست یہ حکمت و دانش
کہاں کہاں مری خاطر کمند و دام نہیں
وہ درس دیتے ہیں اخلاق کا اب اے آسیؔ
سلام کیجیے جن کو تو لیں سلام نہیں