ہزار زخم ہیں دل پر جگر پہ کھائے ہوئے

ہزار زخم ہیں دل پر جگر پہ کھائے ہوئے
مگر ملے جو کسی سے تو مسکرائے ہوئے


کچھ اس ادا سے وہ آئے نظر جھکائے ہوئے
تمام رہ گئے شکوے زباں پہ آئے ہوئے


ادھر تو ساغر و پیمانہ والے رہتے ہیں
ادھر کہاں چلے واعظ قدم بڑھائے ہوئے


بڑھو کچھ اور کہ تاریکیٔ جفا کم ہو
اسی طرح سے چراغ وفا جلائے ہوئے


ہمیں ستانے سے باز آؤ گے یقیں تو نہیں
تمہارے کتنے ہی وعدے ہیں آزمائے ہوئے


تمہارے تیر نظر کو کسی نے کچھ نہ کہا
ہماری آہ کو ہیں داستاں بنائے ہوئے


ہمارا ذکر اور اس میکدے میں اے آسیؔ
یہاں تو شیخ و برہمن ہیں ڈگمگائے ہوئے