کیا پوچھتے ہو حال دل بیقرار آج
کیا پوچھتے ہو حال دل بیقرار آج
جو کل تھی ہے وہ گردش لیل و نہار آج
اس پیکر جفا کو نہ کوس اے دل حزیں
تیری طرح ہے وہ بھی بہت بیقرار آج
میرے ہی دم سے رہ گیا مے خانے میں بھرم
ورنہ جناب شیخ کو ملتا ادھار آج
اس نے لکھا ہے بہر عیادت کل آئیں گے
جینے بھی دے گا مجھ کو دل بے قرار آج
کس مست کی دعا ہوئی مقبول بارگاہ
آیا ہے جھوم جھوم کے ابر بہار آج
میرے لیے کہیں بھی جہاں میں سکوں نہیں
لے کر کہاں چلا ہے دل بے قرار آج
اس گل نے جانے کیا مرے بارے میں کہہ دیا
گزری ہے مجھ سے کٹ کے نسیم بہار آج
یہ فیض ہے طبیبؔ و قتیلؔ اور زارؔ کا
آسیؔ جو شاعروں میں ہے تیرا شمار آج