Mohammad Alvi

محمد علوی

ممتاز ترین جدید شاعروں میں نمایاں۔ ساہتیہ اکادمی انعام یافتہ

One of the most prominent modern poets. Known for his style of layered simplicity. Recipient of Sahitya Academy award.

محمد علوی کی نظم

    مجھے ان جزیروں میں لے جاؤ

    مجھے ان جزیروں میں لے جاؤ جو کانچ جیسے چمکتے ہوئے پانیوں میں گھرے ہیں جہاں لڑکیاں ناریل کے درختوں کے پتوں سے اپنے بدن کے خطرناک حصے چھپاتی ہیں پھولوں کے گجرے پہن کر بڑی شان سے مسکراتی ہیں بچے جہاں ریت کے گھر بناتے ہیں اور ساحلوں کی چمکتی ہوئی ریت پر لوگ سن باتھ لیتے ہیں پانی میں ...

    مزید پڑھیے

    ڈپریشن

    کوئی حادثہ کوئی سانحہ کوئی بہت ہی بری خبر ابھی کہیں سے آئے گی! ایسی جان لیوا فکروں میں سارا دن ڈوبا رہتا ہوں رات کو سونے سے پہلے اپنے آپ سے کہتا ہوں بھائی مرے دن خیر سے گزرا گھر میں سب آرام سے ہیں کل کی فکریں کل کے لیے اٹھا رکھو ممکن ہو تو اپنے آپ کو موت کی نیند سلا رکھو!!

    مزید پڑھیے

    نیند

    رات اک گھر جل گیا! گھر جلا تو آگ میں گھر کے سب افراد بھی جل کے کوئلہ ہو گئے آگ ٹھنڈی پڑ گئی تو دیکھنے والوں نے دیکھا گھر کے اک حصے میں جو بچ گیا تھا آگ سے ایک ننھی منی بچی بھینچ کر چھاتی سے گڑیا سو رہی تھی بے خبر!

    مزید پڑھیے

    قرب و بعد

    رات کو جب بھی آنکھ کھلی ہے مجھ کو یوں محسوس ہوا ہے جیسے کوئی میرے سرہانے کھڑا ہوا ہے دو آنکھیں میٹھی نظروں سے میرا چہرا چوم رہی ہیں دو ہاتھوں کی نرمی میرے رخساروں پر پھیل گئی ہے دو ہونٹوں کی گرمی میری پیشانی میں جذب ہوئی ہے زلفوں کی لہراتی خوشبو سانسوں میں رس بس سی گئی ہے کمرے کی ...

    مزید پڑھیے

    آگے مت سوچو

    سنتے ہو اک بار وہاں پھر ہو آؤ ایک بار پھر اس کی چوکھٹ پر جاؤ دروازے پر دھیرے دھیرے دستک دو جب وہ سامنے آئے تو پرنام کرو ''میں کچھ بھول گیا ہوں شاید'' اس سے کہو کیا بھولا ہوں یاد نہیں آتا کہہ دو اس سے پوچھو ''کیا تم بتلا سکتی ہو'' وہ ہنس دے تو کہہ دو جو کہنا چاہو اور خفا ہو جائے تو ....آگے ...

    مزید پڑھیے

    کون؟

    کبھی دل کے اندھے کنویں میں پڑا چیختا ہے کبھی دوڑتے خون میں تیرتا ڈوبتا ہے کبھی ہڈیوں کی سرنگوں میں بتی جلا کر یوں ہی گھومتا ہے کبھی کان میں آ کے چپکے سے کہتا ہے تو اب تلک جی رہا ہے؟ بڑا بے حیا ہے! مرے جسم میں کون ہے یہ جو مجھ سے خفا ہے

    مزید پڑھیے

    مشورہ

    راتوں کو سونے سے پہلے نئی پرانی یادوں کو الٹ پلٹ کرتے رہنا ورنہ کالی پڑ جائیں گی ادھر ادھر سے سڑ جائیں گی

    مزید پڑھیے

    بائیں آنکھ میں تل والے کی زبانی

    اپنے خدا کو حاضر جان کے میں جو کہوں گا سچ ہی کہوں گا سچ کے علاوہ کچھ نہ کہوں گا مجھ کو کچھ معلوم نہیں ہے بس اتنا معلوم ہے صاحب کمرے میں اک لاش پڑی تھی لاش کے پاس اک شخص کھڑا تھا اس کی بائیں آنکھ میں تل تھا دودھ سے اجلا اس کا دل تھا سب کہتے ہیں وہ قاتل تھا!

    مزید پڑھیے

    گھوڑے پر اک لاش

    گونج اٹھی ساری وادی زخمی گھوڑے کی ٹاپوں سے ٹاپوں کی آواز پہاڑوں سے ٹکرائی بکھری دھوپ کسی اونچی چوٹی سے گرتے پڑتے اتری بڑے بڑے پتھروں کے نیچے سایوں نے حرکت کی اڑتے گدھ کی آنکھوں میں تصویر بنی حیرت کی ریت چمکتی ریت، ریت اور پتھر اور اک گھوڑا گھوڑے پر اک لاش، لاش کو لے کر گھوڑا ...

    مزید پڑھیے

    گھر

    اب میں گھر میں پاؤں نہیں رکھوں گا کبھی گھر کی اک اک چیز سے مجھ کو نفرت ہے گھر والے سب کے سب میرے دشمن ہیں جیل سے ملتی جلتی گھر کی صورت ہے ابا مجھ سے روز یہی فرماتے ہیں ''کب تک میرا خون پسینہ چاٹو گے'' اماں بھی ہر روز شکایت کرتی ہیں ''کیا یہ جوانی پڑے پڑے ہی کاٹو گے'' بھائی کتابوں کو ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 4 سے 5