Mohammad Ali Mauj Rampuri

محمد علی موج رام پوری

محمد علی موج رام پوری کی غزل

    آپ تو رات سو لیے صاحب

    آپ تو رات سو لیے صاحب ہم نے تکیے بھگو لیے صاحب درد کی دھول غم کی باد سموم گھر کا دروازہ کھولیے صاحب اس کے دامن کو چھو کے آئے ہیں ہم کو پھولوں میں تولیے صاحب تلخیوں کا مزاج بدلے گا زہر میں قند گھولیے صاحب دیکھیے خود کو میرے چہرے میں عکس شیشے میں تولیے صاحب ہم بھی منہ میں زبان ...

    مزید پڑھیے

    خموشی کو جھنجھوڑا جا رہا ہے

    خموشی کو جھنجھوڑا جا رہا ہے ہوا میں تیر چھوڑا جا رہا ہے تری تصویر کے ہیں رنگ پیاسے بہاروں کو نچوڑا جا رہا ہے بنا کر دائرے انگڑائیوں کے حصار خواب توڑا جا رہا ہے پرانی داستانوں کا تعلق نئے قصوں سے جوڑا جا رہا ہے یوں ہی ارزاں نہیں ہیں یہ کتابیں ہمارا ذہن موڑا جا رہا ہے

    مزید پڑھیے

    چہرے جب دل کی سیاہی کا پتا دیتے ہیں

    چہرے جب دل کی سیاہی کا پتا دیتے ہیں لوگ آئینے مقابل سے ہٹا دیتے ہیں حوصلے حسن خودی اور بڑھا دیتے ہیں پتھرو آؤ کہ آئینے صدا دیتے ہیں آپ جس شہر کے قاتل تھے اسی شہر کے لوگ جانے کیوں آپ کو جینے کی دعا دیتے ہیں موجؔ افکار میں ڈوبے ہوئے میرے اشعار کم سے کم ان کو تو آئینہ دکھا دیتے ...

    مزید پڑھیے

    دشمنی ہے نہ کہیں یاری ہے

    دشمنی ہے نہ کہیں یاری ہے جینے والے تری فن کاری ہے محو حیرت سماعتیں ہیں ابھی خامشی کا بیان جاری ہے کچھ تو ہم عکس ہیں آئینے بھی اور کچھ اپنی اداکاری ہے چہرگی چپ ہے خد و خال خموش آئینوں پر سکوت طاری ہے آج کل داد سخن دینا بھی موجؔ غالبؔ کی طرف داری ہے

    مزید پڑھیے

    دور تک راہ میں کانٹے ہیں بہت

    دور تک راہ میں کانٹے ہیں بہت میرے بھی چاہنے والے ہیں بہت گھر سے نکلو نہ بدل کر چہرے شہر میں آئینہ خانے ہیں بہت کیا چھپیں خوشبوئیں رسوائی کی پیار کے پھول مہکتے ہیں بہت اور کچھ بھی نہیں اپنے بس میں یاد کر کے تجھے روتے ہیں بہت تو بھی تنہا ہے بچھڑ کر ہم سے ہم بھی اے دوست اکیلے ہیں ...

    مزید پڑھیے

    دوستی چیز ہے کیا رسم وفا کیسی ہے

    دوستی چیز ہے کیا رسم وفا کیسی ہے ہم سے پوچھے کوئی جینے کی سزا کیسی ہے تو خفا مجھ سے نہیں ہے تو بتا پھر اے دوست تیرے لہجے میں تکلف کی ادا کیسی ہے جب کہ ممکن ہی نہیں معرکۂ کرب و بلا پھر ہر اک جسم پہ خوں رنگ قبا کیسی ہے طے کیا میں نے ترے ساتھ چراغوں کا سفر لوگ جب سوچ رہے تھے کہ ہوا ...

    مزید پڑھیے

    سبھی تارے سبھی جگنو میرے

    سبھی تارے سبھی جگنو میرے اب اور آنچل ہے اور آنسو میرے کیا حکایات شب و روز کہوں ذہن میں ہیں رخ و گیسو میرے قید کر لے کوئی آئینوں میں عکس بکھرے ہوئے ہر سو میرے کاش ایسا ہو کہ تتلی بن کر ہاتھ آ جائے وہ خوشبو میرے سب کی آنکھوں میں اڑانیں ہیں مری کس نے دیکھے پر و بازو میرے ایک ...

    مزید پڑھیے

    چند لمحوں میں معما زیست کا حل کر گیا

    چند لمحوں میں معما زیست کا حل کر گیا ایک دیوانہ خرد مندوں کو پاگل کر گیا دھوپ تپتی ریت پر دریا پہ بادل کر گیا اس کا ہر کردار میرے ذہن کو شل کر گیا بے اثر بے ربط لہجہ بے توازن گفتگو وہ ملا بھی تو طبیعت اور بوجھل کر گیا مصلحت آمیز باتیں ابر بن کر چھا گئیں دل کا ساون اس طرح برسا کہ ...

    مزید پڑھیے

    نجم بہت مہتاب بہت

    نجم بہت مہتاب بہت آنکھیں ہوں تو خواب بہت پیار ملا جب غیروں سے یاد آئے احباب بہت میرے عہد کی آنکھوں میں نیندیں کم ہیں خواب بہت کوئی آنے والا ہے موسم ہے شاداب بہت مصرف ہو تو ہر لمحہ زیست کا ہے نایاب بہت ڈوبنے والوں سے کہہ دو دریا ہیں پایاب بہت

    مزید پڑھیے

    رات بھی تیرا دھیان بھی ہم بھی

    رات بھی تیرا دھیان بھی ہم بھی چاند بھی آسمان بھی ہم بھی اپنی اپنی انا کی قید میں ہیں خالی خالی مکان بھی ہم بھی کھو گئے گم رہی کے صحرا میں منزلوں کے نشان بھی ہم بھی سایہ سایہ تمازتوں کے ہجوم دھوپ بھی سائبان بھی ہم بھی ایک سچ ایک واہمہ اک جھوٹ وہ بھی اس کا گمان بھی ہم بھی اپنی ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 1 سے 2