نجم بہت مہتاب بہت

نجم بہت مہتاب بہت
آنکھیں ہوں تو خواب بہت


پیار ملا جب غیروں سے
یاد آئے احباب بہت


میرے عہد کی آنکھوں میں
نیندیں کم ہیں خواب بہت


کوئی آنے والا ہے
موسم ہے شاداب بہت


مصرف ہو تو ہر لمحہ
زیست کا ہے نایاب بہت


ڈوبنے والوں سے کہہ دو
دریا ہیں پایاب بہت