دشمنی ہے نہ کہیں یاری ہے
دشمنی ہے نہ کہیں یاری ہے
جینے والے تری فن کاری ہے
محو حیرت سماعتیں ہیں ابھی
خامشی کا بیان جاری ہے
کچھ تو ہم عکس ہیں آئینے بھی
اور کچھ اپنی اداکاری ہے
چہرگی چپ ہے خد و خال خموش
آئینوں پر سکوت طاری ہے
آج کل داد سخن دینا بھی
موجؔ غالبؔ کی طرف داری ہے