سبھی تارے سبھی جگنو میرے

سبھی تارے سبھی جگنو میرے
اب اور آنچل ہے اور آنسو میرے


کیا حکایات شب و روز کہوں
ذہن میں ہیں رخ و گیسو میرے


قید کر لے کوئی آئینوں میں
عکس بکھرے ہوئے ہر سو میرے


کاش ایسا ہو کہ تتلی بن کر
ہاتھ آ جائے وہ خوشبو میرے


سب کی آنکھوں میں اڑانیں ہیں مری
کس نے دیکھے پر و بازو میرے


ایک معصوم سا چہرہ اے موجؔ
کر گیا ذہن پہ جادو میرے