چہرے جب دل کی سیاہی کا پتا دیتے ہیں
چہرے جب دل کی سیاہی کا پتا دیتے ہیں
لوگ آئینے مقابل سے ہٹا دیتے ہیں
حوصلے حسن خودی اور بڑھا دیتے ہیں
پتھرو آؤ کہ آئینے صدا دیتے ہیں
آپ جس شہر کے قاتل تھے اسی شہر کے لوگ
جانے کیوں آپ کو جینے کی دعا دیتے ہیں
موجؔ افکار میں ڈوبے ہوئے میرے اشعار
کم سے کم ان کو تو آئینہ دکھا دیتے ہیں