چند لمحوں میں معما زیست کا حل کر گیا

چند لمحوں میں معما زیست کا حل کر گیا
ایک دیوانہ خرد مندوں کو پاگل کر گیا


دھوپ تپتی ریت پر دریا پہ بادل کر گیا
اس کا ہر کردار میرے ذہن کو شل کر گیا


بے اثر بے ربط لہجہ بے توازن گفتگو
وہ ملا بھی تو طبیعت اور بوجھل کر گیا


مصلحت آمیز باتیں ابر بن کر چھا گئیں
دل کا ساون اس طرح برسا کہ جل تھل کر گیا


میری آہٹ پا کے جس کے چونک اٹھتے تھے کواڑ
کوئی آج اس گھر کا دروازہ مقفل کر گیا


ہر طرف یہ عام شہرت ہے کہ کوئی شہ سوار
آج سارے شہر کے لوگوں کو پیدل کر گیا


سرد لہجے میں وہ مجھ سے گفتگو کرنے کے بعد
جب اٹھا تو ربط ذہن و دل معطل کر گیا


موج اس چہرے پہ لکھا ایک لفظ انتشار
خود فریبی کے سبھی قصے مکمل کر گیا