دوستی چیز ہے کیا رسم وفا کیسی ہے
دوستی چیز ہے کیا رسم وفا کیسی ہے
ہم سے پوچھے کوئی جینے کی سزا کیسی ہے
تو خفا مجھ سے نہیں ہے تو بتا پھر اے دوست
تیرے لہجے میں تکلف کی ادا کیسی ہے
جب کہ ممکن ہی نہیں معرکۂ کرب و بلا
پھر ہر اک جسم پہ خوں رنگ قبا کیسی ہے
طے کیا میں نے ترے ساتھ چراغوں کا سفر
لوگ جب سوچ رہے تھے کہ ہوا کیسی ہے
تیری رفتار نے احساس کو پیکر بخشا
ورنہ کس کو تھی خبر باد صبا کیسی ہے