خموشی کو جھنجھوڑا جا رہا ہے
خموشی کو جھنجھوڑا جا رہا ہے
ہوا میں تیر چھوڑا جا رہا ہے
تری تصویر کے ہیں رنگ پیاسے
بہاروں کو نچوڑا جا رہا ہے
بنا کر دائرے انگڑائیوں کے
حصار خواب توڑا جا رہا ہے
پرانی داستانوں کا تعلق
نئے قصوں سے جوڑا جا رہا ہے
یوں ہی ارزاں نہیں ہیں یہ کتابیں
ہمارا ذہن موڑا جا رہا ہے