معین نظامی کی نظم

    نسب نامہ

    مرے اجداد کے گرتے ہوئے حجرے کے محراب خمیدہ میں کسی صندل کے صندوق تبرک میں ہرن کی کھال پر لکھا ہوا شجرہ بھی رکھا ہے کہ جس پر لاجوردی دائروں میں زعفرانی روشنائی سے مرے سارے اقارب کے مقدس نام لکھے ہیں مگر اک دائرہ ایسا بھی ہے جس میں سے لگتا ہے کہ کچھ کھرچا گیا ہے میں ان کھرچے ہوئے ...

    مزید پڑھیے

    خاموشی کے نام

    ہم کہ گفتار کے تاجر ہیں جمال خاموش حرمت لفظ سے آگاہ نہیں بات کرنے کو ہنر جانتے ہیں بولتے بولتے تھکتے ہی نہیں جب تکلم کے تسلسل سے تہی ہوتے ہیں تو لگتا ہے کہ ہے اس گھڑی تشت زبانی خالی ہو گیا خوان معنی خالی ایسے عالم میں ہمیں تیری خاموشی خوش رنگ کشش کرتی ہے تیرا سناٹا ہمیں تیری طرف ...

    مزید پڑھیے

    خلا

    کچھ اس طرح کے خلا میرے روز و شب میں ہے جو فاصلے سے کسی کو نظر نہیں آتے کچھ اس طرح کے تضادات مجھ میں یکجا ہیں جو عقل و فہم کے زیر اثر نہیں آتے مرے قریب جو آتا ہے خوش نہیں رہتا میں سوچتا ہوں کہ تو جتنے فاصلے پر تھا خوشی کے موسم گل رنگ میں وہیں رہتا

    مزید پڑھیے

    اس طرح کی باتوں میں احتیاط کرتے ہیں

    زندگی کی راہوں میں بارہا یہ دیکھا ہے صرف سن نہیں رکھا خود بھی آزمایا ہے تجربوں سے ثابت ہے جو بھی پڑھتے آئے ہیں اس کو ٹھیک پایا ہے اس طرح کی باتوں سے منزلوں سے پہلے ہی ساتھ چھوٹ جاتے ہیں لوگ روٹھ جاتے ہیں یہ تمہیں بتا دوں میں چاہتوں کے رشتے میں پھر گرہ نہیں لگتی لگ بھی جائے تو اس ...

    مزید پڑھیے

    وہی میں ہوں وہی میری کہانی ہے

    وہی قصہ مرے دل کا دل وحشت زدہ پر بادلوں کی طرح اس امڑے ہوئے بے نام موسم کا کہ جو بے نام تو تھا ہی کئی برسوں سے بے معنی بھی ہو کر رہ گیا ہے اور یہ میں نے اس لیے لکھا ہے کیوں کہ میں نے اس کے معنی بے حد معذرت کے ساتھ اب تک کمپیوٹر کے زمانے کے کسی زرخیز تر دل کے لغت میں بھی نہیں دیکھے مرے ...

    مزید پڑھیے

    اے ہوا شور کر

    ان معمر درختوں کے قلعے میں بھگدڑ مچا دیودار کی شاخوں پہ شب خون مار اور خواہش کے پتوں کے قالین پر ایسا اودھم مچا جو رگوں میں ٹھٹھرتے ہوئے خون کو گرم کر دے خیالوں کی تہ دیگ کو اتنا کھولا کہ برفانی تودوں سے چنگاریاں پھوٹ نکلیں دلوں اور ذہنوں کے مابین کھینچی ہوئی خشک تاروں پہ باندھے ...

    مزید پڑھیے

    جادو

    کسی دنیا کے نقشے میں کوئی اچھا بہت اچھا نگر ہے جس میں میں ہوں اس بہت اچھے نگر میں کوئی اچھا سا بہت اچھا سا گھر ہے جس میں میں ہوں اس بہت اچھے سے گھر میں اک بہت اچھا سا بت ہے جس میں میں ہوں اس بہت اچھے سے بت میں اک بہت اچھا سا دل ہے جس میں میں ہوں اس بہت اچھے سے بت کی سرخ ڈوروں والی ...

    مزید پڑھیے

    فراغت کا خنک موسم

    فراغت کے خنک موسم میں دل کی نیم تاریکی میں بیٹھا ہوں اکیلے پن کی بے آرام کرسی پر میں بے ہنگام جھولے لے رہا ہوں اور کئی گھنٹوں سے میں نے اک شکن آلود بستر کی گواہی اوڑھ رکھی ہے کتاب عمر کے کچھ باب پڑھ کر تھک گیا تھا میں ابھی وحشت کے قہوے سے ذرا تسکین پائی ہے

    مزید پڑھیے

    آخری المیہ

    ہمارے بال و پر میں آسماں پیمائی لکھی تھی کسی مرتے پرندے نے ہمیں پرواز سونپی تھی ہمیں اس انتہائے شب میں پھر تنہا ستارے چگنے جانا ہے ستارو ہم کسے اعجاز بخشیں گے کسے اپنے پروں کی گرد سے لپٹی ہوئی یہ آخری پرواز بخشیں گے

    مزید پڑھیے

    کوئی رنگ دل پہ چڑھا نہیں

    مری جان دشت سلوک میں مجھے جس مقام پہ چھوڑ کر یہ سفال رابطہ توڑ کر ذرا آگ لینے گئے تھے تم میں رکا ہوا ہوں اسی جگہ سر مو بھی آگے بڑھا نہیں مری جان مجھ پہ یہ بار ہیں مرے آئنے کا غبار ہیں یہ تمہارے ریشمی تار ہیں یہ تمہاری سوزن سیم ہے یہ مری وہ سادہ گلیم ہے کوئی پھول جس پہ کڑھا نہیں مری ...

    مزید پڑھیے