معین نظامی کی غزل

    ہے تحیر زدہ اس شہر میں خاموشی بھی

    ہے تحیر زدہ اس شہر میں خاموشی بھی کہ سنائی نہیں دیتی کوئی سرگوشی بھی دل گرفتار تذبذب ہے کدھر کو جائے گھر بھی یاد آتا ہے اور دشت فراموشی بھی یہ حقیقت ہے کہ بے مثل ہے خود اس کی طرح اس خوش اندام کی خوش باشی و خوش پوشی بھی ایک دیوار سے مل جاتا ہے سایہ بھی ہمیں اور چاہیں تو کچھ احساس ...

    مزید پڑھیے

    بے مہری‌ٔ دوستاں الگ ہے

    بے مہری‌ٔ دوستاں الگ ہے اور اس پہ غم جہاں الگ ہے اعصاب الگ تھکے ہوئے ہیں اور دل ہے کہ سرگراں الگ ہے اس رنج کو بیچ میں نہ لاؤ اس رنج کی داستاں الگ ہے موقوف ہے جو تری نظر پر وہ لذت جاوداں الگ ہے سر سبز ہے جو ترے کرم سے وہ شاخ ملال جاں الگ ہے اے مجمع علم و فضل و دانش تم سب سے مرا ...

    مزید پڑھیے

    دل میں یاد خدا بھی آتی ہے

    دل میں یاد خدا بھی آتی ہے خواہش ما سوا بھی آتی ہے اس تضادات کے جزیرے پر حبس ہے اور ہوا بھی آتی ہے روشنی بھی ہے اس اندھیرے میں خامشی ہے صدا بھی آتی ہے خواہشوں سے ادھر کی خواہش میں ہمیں دل سے حیا بھی آتی ہے کل دعا نے یہ مجھ سے پوچھا تھا کیا تمہیں بد دعا بھی آتی ہے

    مزید پڑھیے

    تجھ تک بچا کے لائی ہے میری جبیں مجھے

    تجھ تک بچا کے لائی ہے میری جبیں مجھے ورنہ تو دل نشیں تھے بہت کفر و دیں مجھے مجھ کو وہ چہرہ خواب میں دیکھا ہوا لگا دیکھا ہوا تھا اس نے بھی شاید وہیں مجھے تقسیم کرنے والے نے ایسا کرم کیا انگشتری کسی کو ملی اور نگیں مجھے مجھ پر عطائے خاص ہے سانپوں کے باب میں رکھتی ہے خود کفیل مری ...

    مزید پڑھیے

    میں نے کہا تھا آج نہ جائیں گھوڑے بے حد تھکے ہوئے ہیں

    میں نے کہا تھا آج نہ جائیں گھوڑے بے حد تھکے ہوئے ہیں اس نے کہا تھا جانا طے ہے دشمن پیچھے لگے ہوئے ہیں میں نے کہا تھا دائیں طرف کی گھاٹی میں ہم چھپ جاتے ہیں اس نے کہا تھا نا ممکن ہے تیروں میں ہم گھرے ہوئے ہیں میں نے کہا تھا غار میں کاٹیں ہجرت رت کی پہلی راتیں اس نے کہا تھا اس کے ...

    مزید پڑھیے

    پہلے ہی دن کھلا یہ جواب و سوال میں

    پہلے ہی دن کھلا یہ جواب و سوال میں کچھ حسن اس کے دل میں ہے کچھ خد و خال میں سیلاب شوق میرا توازن تو لے گیا لیکن وہ خوش مزاج رہا اعتدال میں جسموں سے ماورا بھی حقائق بہت سے ہیں پائی ہے دل نے روشنی شام وصال میں آئی ہے بارہا ترے آنے سے پیشتر پازیب کی چھنک میرے کنج خیال میں تجھ سے ...

    مزید پڑھیے

    سوال اس سے ہمارا کہاں نباہ کا ہے

    سوال اس سے ہمارا کہاں نباہ کا ہے مطالبہ ہے مگر صرف اک نگاہ کا ہے ہمیشگی کے مراسم تو دل کو راس نہیں علاج اس کا وہی ربط گاہ گاہ کا ہے میں دین عشق میں توحید کا جو قائل ہوں تو معجزہ یہ ترے حسن بے پناہ کا ہے وصال و ہجر سے میں کس کا انتخاب کروں یہاں پہ خود سے مجھے خوف اشتباہ کا ہے خبر ...

    مزید پڑھیے

    ادھورا رہ گیا مجنوں سے استفادہ مرا

    ادھورا رہ گیا مجنوں سے استفادہ مرا سو پھر سے دشت کو جانے کا ہے ارادہ مرا عجیب شاخ تھی صندل کی مجھ سے کہتی تھی بجائے سرمہ لگایا کرو برادہ مرا ضرورتوں کی کفالت اسی کے ذمہ ہے جسے خیال ہے مجھ سے کہیں زیادہ مرا شیخ نگاہ تری حاضری کو چل نکلوں ہوائے توبہ سکھا دے اگر لبادہ مرا ترے ...

    مزید پڑھیے

    ریاض مرقد محراب میں بسر کی ہے

    ریاض مرقد محراب میں بسر کی ہے مزشتراب عجب خواب میں بسر کی ہے کسی سبب کی ضرورت نہیں پڑی ہے ہمیں کچھ ایسے عالم اسباب میں بسر کی ہے رہ سلوک سے سیکھا ہے زندگی کا چلن تمام عمر کچھ آداب میں بسر کی ہے

    مزید پڑھیے